آپ کا سلاماحمد خیالاردو غزلیاتشعر و شاعری

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا

احمد خیال کی اردو غزل

شہر صدمات سے آگے نہیں جانے والا

میں تری ذات سے آگے نہیں جانے والا

تو بھی اوقات میں رہ مجھ سے جھگڑنے والے

میں بھی اوقات سے آگے نہیں جانے والا

ایسے لگتا ہے مری جان تعلق اپنا

اس ملاقات سے آگے نہیں جانے والا

آج کی رات ہے بس نور کی کرنوں کا جلال

دیپ اس رات سے آگے نہیں جانے والا

میرے کشکول میں ڈال اور ذرا عجز کہ میں

اتنی خیرات سے آگے نہیں جانے والا

احمد خیال 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button