آپ کا سلاماردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریراکرم ثاقب

بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

ایک مزاحیہ تحریر از اکرم ثاقب

اردو ادب اور طبِ مشرق میں شادی شدہ خواتین کی بعض "مخصوص علالتیں” وہ لاینحل معمہ ہیں جن کی گتھی سلجھانا ارسطو اور بقراط جیسے حکماء کے بس میں بھی نہ تھا۔ ان پراسرار بیماریوں کا تعلق انسانی اناٹومی (Anatomy) سے زیادہ شوہر کے "بٹوے” کی موٹائی اور اس کی توجہ کی فریکوئنسی سے ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں کسی وائرس سے نہیں، بلکہ شوہر کی "بے نیازی” سے جنم لیتی ہیں۔
عام مشاہدہ ہے کہ ایک گھریلو خاتون، جو علی الصبح سے دوپہر ڈھلے تک پورے گھر کو کسی "وار زون” کی طرح کمانڈ کرتی ہے، بچوں کو فوجی ڈسپلن کے ساتھ اسکول روانہ کرتی ہے، ساس کے ساتھ "اعصابی جنگ” میں مصروف رہتی ہے اور محلے بھر کی سی آئی اے (CIA) بن کر خبریں اکٹھی کرتی ہے؛ وہی خاتون شام ہوتے ہی جوں ہی شوہر کے جوتوں کی چاپ سنتی ہے، اس کے وجود پر نقاہت، بے چارگی اور "مظلومیت” کے ایسے بادل چھا جاتے ہیں کہ شوہر کو لگتا ہے شاید اسے گھر کے بجائے کسی آئی سی یو (ICU) میں داخل ہونا چاہیے تھا۔
اس ماورائی بیماری کی سب سے کلاسک علامت وہ "اچانک سر درد” ہے جو صرف اس وقت نمودار ہوتا ہے جب شوہر کی جانب سے کسی فرمائش کا شائبہ ہو یا باورچی خانے سے برتنوں کے دھلنے کی صدا آنے والی ہو۔ یہ سر درد اس قدر خوددار اور ضدی ہے کہ دنیا کی مہنگی ترین گولی بھی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ لیکن، اگر شوہر کمالِ مسیحائی دکھاتے ہوئے یہ کہہ دے کہ "بیگم! میرا خیال ہے آج تمہیں کچن کی گرمی سے دور کسی ائیر کنڈیشنڈ ریسٹورنٹ میں ڈنر کرنا چاہیے،” تو وہی درد سیکنڈوں میں ایسے غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ میڈیکل سائنس میں اسے "ریسٹورنٹ سنڈروم” یا "پکنک تھراپی” کا نام دیا جا سکتا ہے۔
پھر ایک اور کیفیت ہے جسے "کمر کا دائمی لچکدار درد” کہا جاتا ہے۔ بیگم سارا دن کچن کے حبس میں کھڑے ہو کر منوں کے حساب سے پکوڑے تل لے گی، پورے گھر کی صفائی میں پیرا شوٹ بن کر اڑے گی، لیکن جوں ہی شوہر یہ معصومانہ درخواست کرے گا کہ "ذرا میرے سر میں تیل تو لگا دو،” تو بیگم کی کمر میں ایسا "کڑکا” اٹھے گا کہ شوہر خود کو کسی بین الاقوامی مجرم کی طرح محسوس کرنے لگے گا۔ وہ بیچارہ جو خود دفتر کی سیاست، باس کی ڈانٹ اور ٹریفک کے اژدھام سے ادھ موا ہو کر آیا ہوتا ہے، اب اسے بیگم کے ماتھے پر پٹیاں باندھنی پڑتی ہیں اور بستر پر لیٹی "مریضہ” کو خود چائے بنا کر پیش کرنی پڑتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بیگم لیٹے لیٹے اپنی بیماری کی ایسی المناک داستان سناتی ہیں کہ شوہر کو لگتا ہے اس نے کسی "نازک کانچ کی گڑیا” سے عقد کر لیا ہے، جس کا واحد علاج اس کی جی حضوری ہے۔
ایک اور عجیب و غریب کیفیت "موسمی نزلہ و زکام” کی ہے، جو عام طور پر تبھی شدت اختیار کرتی ہے جب سسرال والوں (یعنی نند یا ساس) کی طرف سے کسی دعوت کا بلاوا آئے۔ اس وقت بیگم کی آواز میں ایسی لرزش اور چھینکوں میں ایسا سوز و گداز ہوتا ہے کہ شوہر مجبوراً فون کر کے کہہ دیتا ہے کہ "بھئی! ہم معذور ہیں، آپ کی بہو کی حالت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی۔” لیکن حیرت کی انتہا تب ہوتی ہے جب اسی شام میکے سے کسی خالہ کی بیٹی کی منگنی کا فون آ جائے؛ وہی نزلہ فوراً "خوشگوار موڈ” میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بیگم ہشاش بشاش ہو کر کسی الیکٹرک مشین کی رفتار سے تیار ہونے لگتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی ان بیماریوں میں "نمائش” کم اور ایک "سٹریٹجک حربہ” زیادہ پنہاں ہوتا ہے۔ شادی کے چند برسوں بعد جب میاں بیوی ایک دوسرے کی گفتگو سے "بور” ہونے لگتے ہیں، تو خاموشی توڑنے اور شوہر کی "غیر منقسم توجہ” حاصل کرنے کا سب سے آزمودہ نسخہ یہی "بیمار” بننا ہے۔ جب تک بیگم کے ہاتھ پاؤں نہیں ٹوٹیں گے، شوہر کو اس کی مشینی زندگی کی اہمیت کا احساس کیسے ہوگا؟ لہٰذا، یہ بیماری دراصل ایک خاموش احتجاج ہے، ایک نفسیاتی مطالبہ ہے کہ "مجھے دیکھو، میری نازک مزاجی کا خیال کرو اور کم از کم آج کے دن مجھے اس تھکا دینے والی گھریلو روٹین سے ریٹائرمنٹ دلاؤ۔”
کچھ بیگمات تو ایسی فنکارہ ہوتی ہیں کہ وہ اپنی بیماری میں شوہر کی تیرہ سال پرانی غلطیاں بھی گھسیٹ لاتی ہیں۔ مثلاً: "آج جو میرا بلڈ پریشر ہائی ہے، یہ اسی دن کا اثر ہے جب تم نے میری سالگرہ پر مجھے کیک کے بجائے استری لا کر دی تھی!” یہاں بیماری ایک "جوہری ہتھیار” بن جاتی ہے جس کے سامنے دنیا کا بڑے سے بڑا منطقی شوہر بھی ہتھیار ڈال کر صلح کی بھیک مانگنے لگتا ہے۔
آخر میں، تجربہ کار شوہروں کا نچوڑ یہ ہے کہ بیگم کی ہر "ہائے” پر "اوہو” کہا جائے، تھوڑی سی ہمدردی کا مسالہ لگایا جائے اور چپ چاپ اپنا پرس نکال کر ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی برانڈڈ دکان یا شاپنگ مال کی ٹھنڈی ہوا لگتے ہی تمام بیماریاں خود بخود ایڑیاں رگڑ کر دم توڑ دیتی ہیں اور بیگم چشمِ زدن میں "خیرت سے” ہو جاتی ہیں۔

پروفیسر اکرم ثاقب

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button