پچیس سال بیت گئے
سوچنے بیٹھوں تو لگتا ہے پچیس سال نہیں پچاسوں صدیاں بیت گئی ہیں
آج آئنے کے سامنے دیر تک کھڑا پچیس سال پہلے زمانے کی بھیڑ بھاڑ میں کہیں گم ہوئے میثم کو ڈھونڈتا رہا
ضعیف بدن خمیدہ کمر اُجڑے ہوئے سفید بال اور بکھرتی ہوئی مٹی میں معدوم ہوتے ہوئے خدوخال
کیا یہ وہی میں ہوں
میں آئنے سے نہیں اِس اجنبی سے سوال کرتا ہوں جو میرے سامنے آئنے میں چُپ سادھے کھڑا ہے
آئنے کے قہقہے بلند ہو رہے ہیں
چہرے کی گہری ہوتی جھریوں کو کسی حد تک خضابی داڑھی نے چھپا رکھا ہے
مگر آنکھوں کے گرد دور تک پھیلے سرابوں کے سامنے کیسے دیوار کھڑی کی جاۓ
وقت کتنا سفاک ہے
اُس کی ہیبت ناکی کے سامنے اپنے چہرے کے خدوخال تک آنکھیں چُرانے لگتے ہیں
قدِ آدم آئنہ مِری بے بسی پر مسلسل
قہقہے لگا رہا ہے
عمر کی عصر ڈھل چکی ہے
زندگی کا لڑکھڑاتا ہوا سورج آخری ڈبکی سے پیشر اُداسی کی گھمبیرتا میں کھویا ہوا ہے
چار دن پہلے مجھے کمپنی کی طرف سے ریٹائرمنٹ لیٹر اور میرے واجبات تھما دیئے گئے
عام طور پر ریٹائرمنٹ کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اب
آپ مذید کام کرنے کے قابل نہیں رہے
سو بچی کچھی زندگی گھر کے کسی کونے کھدرے میں جا گزاریں
چار دن سے گھر پڑا ہوا ہوں
ریٹائرڈ بندے کی زندگی بھی کیا ہے
فراغت ہی فراغت
صبح ہوتے ہی واک پہ نکل جاتا ہوں گھنٹے بھر کی واک کے بعد گھر آنے سے پہلے بار پہ بیٹھ کر کافی پی لیتا ہوں
بار صبح کے وقت کھچا کھچ بھری ہوتی ہے
میرے جیسے کئی بوڑھے کافی کے ایک کپ کی آڑ میں اخبار پڑھتے اور ایک دوسرے سے گپیں ہانکتے ہوئے گھنٹہ بھر گزار لیتے ہیں
میں بھی وہیں بار کے صوفے پہ بیٹھا اخبار دیکھ لیتا ہوں
یہاں اخبار میں پاکستان کی خبریں تو نہیں آتیں
مگر خود کو تھوڑی دیر مصروف رکھنے اور کافی سے لطف لینے کے بہانے شہ سرخیاں دیکھ لیتا ہوں
ان شہ سرخیوں میں پاکستان کے اخباروں کی طرح چٹخارے دار خبریں نہیں ہوتیں
پاکستان سے یاد آیا
کل رات دونوں بیٹوں نے پاؤں دباتے ہوئے مشورہ دیا
مجھے اب پاکستان چلے جانا چاہیے
میں نے دبے لفظوں میں پوچھا کیا میں اب بوجھ لگنے لگا ہوں تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر نگاہیں جھکا لیں
میں سمجھ گیا تھا
میں اُن پر بوجھ نہیں ہوں
مگر شاید وہ میری ریٹائرمنٹ کو زندگی کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ نتھی کر کے دیکھ رہے ہیں
ان کی خواہش ہے پچیس سال سے پردیس میں دربدری کی خاک پھانکنے والا اب اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے
جہاں آبائی گھر بے آباد زمینیں اور اجداد کی قبریں ہیں
وہ چاہتے ہیں
میں زندگی کے آخری دن اپنی مٹی پر گزاروں تاکہ میری مٹی خراب نہ ہو
یہاں پردیس سے تابوت لے کر جانا بھی کوئی آسان تھوڑی ہے
بہت دوڑ بھاگ بھی کر لیں تو ہفتہ دس دن پھر بھی لگ جاتے ہیں
میں نے اُن کے جانے کے بعد بہت دیر سوچا
وہ کہتے تو ٹھیک ہی ہیں
گاؤں چلا جاتا ہوں
ریٹائرمنٹ پہ ملے ہوئے واجبات بیٹیوں اور بیٹوں میں بانٹ بھی دوں تو میری پینشن میرے اور میری بیوی کے لئے کافی ہو گی
بیوی سے مشورہ کر لوں کہ رہنے دوں
ایسا نہ ہو وہ بھی میری طرح بات کی تہہ تک پہنچ جاۓ اور پھر رونے بیٹھ جائے
ساری عمر لڑ جھگڑ کر گزاری ہو تب بھی آخری عمر میں محبت کہیں نہ کہیں سے سر اُٹھانے لگ جاتی ہے
پتا نہیں یہ محبت ہے کہ ضرورت
مگر سچ یہی ہے اِس عمر میں اک دوسرے سے بچھڑ جانے کا سوچ کر ہی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں
میں اُسے ابھی واپس لوٹ جانے
کا بتا کر اُس کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا
وہ سوئی رہے
صبح دیکھا جائے گا
رات مٹھی میں بھری ہوئی ریت کی طرح پھسلتی جا رہی ہے
پچھلے پچیس سالوں میں کئی بار واپس جانے کا سوچا
مگر ہر بار کوئی نہ کوئی الجھن سلجھاتے دسمبر کی چھٹیاں گزر جاتی ہیں اور میں ہر بار رہ جاتا ہوں
بابا کی بیماری اور پھر اُن کی اچانک رحلت تک اٹالین پاسپورٹ نہیں ملا تھا
اس لئے سیاسی پناہ کا یہ پناہ گزین اُن کی آخری رسومات میں بھی شریک نہ ہو سکا
تایا ابو اور چچا کی وفات سے دو اور قبریں دل میں بن گئیں
تینوں قبروں پر ہر شام آنسؤوں کے پھول چڑھاتے زمانہ بیت گیا
کھڑکی پر سورج کی پہلی دستک سے پہلے ہی میں ارادہ کر چکا ہوں
مجھے اسی ہفتے واپس گاؤں جانا ہے
فجر کی نماز پڑھ کر جاۓ نماز پر بیٹھی اپنی بیوی کو میں نے گاؤں جانے کا بتایا تو وہ حیرت سے منہ دیکھنے لگی
جیسے اُسے یقین ہی نہ آیا ہو
گ گ گا گاؤں
مگر کیوں
وہاں کون ہے اب
وہاں گھر ہے بوڑھی ماں ہے میرے بھائی ہیں بہنیں ہیں اور تو اور میرے بابا کی قبر ہے وہاں
میری آنکھیں چھلک رہی تھیں
اس نے بمشکل اُٹھتے ہوۓ اپنے دوپٹے کے پلو سے میری آنکھیں صاف کیں
مگر اتنے سالوں بعد اچانک آپ کو لوٹنے کا خیال کیسے آ گیا
اب میں ریٹائر ہو گیا ہوں
میرے پاس فراغت ہی فراغت ہے
اب میں جاؤں گا تو اپنے آبائی گھر کے در و دیوار سے لپٹ کے کُھل کر رو سکوں گا
اُن ساری گلیوں میں ننگے پاؤں چلوں گا جہاں میں نے اپنے بابا کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھا تھا
بابا کے حقے اور عصا کو چوم سکوں گا
اب تک میرے بابا کے ہاتھوں کا لمس ان چیزوں پر ہو گا جو اُن کے استعمال میں رہیں
میں وہ لمس اپنی اُنگلیوں میں بھروں گا
اُن کی قبر کی پائنتی بیٹھ کر اُن سے جنازے میں شریک نہ ہونے کی معافی مانگوں گا
مجھے پتا ہے اُن کی قبر پہ کِھلے ہوۓ گلاب میرا رستہ دیکھتے ہیں
وہ حیرت سے میرا منہ دیکھتی ہے اُس کی آنکھیں بھی بھری ہوئی ہیں مگر وہ اپنے آنسو میرے سامنے بہانا نہیں چاہتی
میں نے واک پہ نکلنے سے پہلے بڑے بیٹے کو آواز دی میری ٹکٹ کراؤ
مجھے اِسی ہفتے پاکستان جانا ہے
بیٹے نے حیرت سے مجھے دیکھا
جیسے اُسے یقین نہ آیا ہو
اتنے سالوں بعد اور ایسے ایک دم
شاید وہ یہی پوچھنا چاہ رہا ہے
سن لیا ناں مجھے اسی ہفتے پاکستان جانا ہے
جی بابا وہ گھڑی پہ وقت دیکھتے ہوۓ بولا
دوپہر کے کھانے پر اُس نے بتایا کہ ٹکٹ ہو چکی ہے اور وہ مجھے پرسوں رات دس بجے ائیرپورٹ پہنچا دے گا
میری بیوی نے میرے کچھ کپڑے اور ضرورت کا سامان بیگ میں رکھ دیا ہے
میں نے کسی بھائی کو آنے کی اطلاع دی ہے نہ کسی بہن کو اور نہ ہی اپنی ماں کو
شاید میں دیکھنا چاہتا ہوں
آبائی علاقوں میں پردیسیوں کے تابوت جانے پر لوگ زیادہ روتے ہیں یا پھر کسی زندہ انسان کے پچیس سال بعد اچانک لوٹ آنے پر
ائیرپورٹ کی جانب سفر کرتے ہوۓ میں نے بیٹے کو اپنی ماں، بہن اور چھوٹے بھائی کا خیال رکھنے کی تاکید کی تو بے اختیار بابا یاد آ گئے وہ ہر بار فون پر سب بہن بھائیوں کا خیال رکھنے کی سختی سے تاکید کرتے
اُفق کے کناروں پر ڈوبتے سورج کی سُرخی یوں پھیلی ہوئی تھی جیسے کسی نے صدیوں کے فراق کو آسمان کے ماتھے پر مَل دیا ہو
جہاز Bologna ائیرپورٹ پر رینگتا ہوا فضا میں اور میں کسی اور دنیا میں معلق ہو رہا تھا سیٹ پہ سر ٹکاۓ جانے کتنے زمانوں و مکان کی خاک چھانتا ہوا میں اپنے سامنے کھڑا تھا چہرے پر زندگی کے نشیب و فراز کی دبیز تہہ جم چکی تھی جسے کھروچتے ہوۓ ڈھائی گھنٹے دبے پاؤں گزر گئے
استنبول آ چکا تھا اور جہاز استنبول کے وسیع و عریض ائیرپورٹ پر اُترنے کے لئے اپنا رن وے ڈھونڈ رہا تھا
یہ وہی استنبول تھا جہاں میں آج سے ٹھیک پچیس برس پہلے غیر قانونی طور پر داخل ہوا تھا
تین ماہ تک اس استنبول نے ماں کی طرح سینے لگاۓ رکھا اک اک منظر میری آنکھوں کے سامنے ٹھہرنے لگا
کُم کاپی
بہرام پاشا
ایکسراۓ
ساحلِ سمندر کا نیلا کھارا پانی
بلیو مسجد اور اس کے میناروں پر لگے کلس
مسجد کے ساتھ ملحقہ پارک اک اک چیز ویسے کی ویسے میرے سامنے موجود تھی
میں نے پچیس سال پہلے کے میثم کو اک بار پھر تلاشنا چاہا مگر ائیرپورٹ کے آئینے میری بے بسی پر بیک وقت قہقہے لگانے لگے
جانے کب جہاز میں بیٹھا کب جہاز نے اُڑان بھری بادلوں کے سمندر پار کیے اور کب پانچ گھنٹے کی طویل پرواز کی مجھے کچھ خبر نہیں میں تو پچیس سال پہلے کے استنبول کے گلی کوچوں میں اپنی جوانی کے وہ تین ماہ ڈھونڈتا رہا جو وقت نے میری مٹھیوں سے ریت کی طرح سرکا کر ہوا میں اُڑا دیئے تھے
آنسؤوں کی آبشار دل کی بنجر زمین پہ گرتی رہی اور میں مسلسل بھیگتا رہا
سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہ جہاز منڈلانے لگا تو کیپٹن نے اعلان کیا
ہم اِس وقت سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہ لینڈ کرنے والے ہیں
میں جیسے کسی خواب سے اچانک جاگا میری نگاہیں کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگیں
سارے دن کا تھکا ماندہ سورج شام کی گود میں گھنٹے بھر تک سر رکھنے والا تھا اور ان ملگجی ساعتوں میں نیچے بکھری روشنیاں دھندلی ہوتی آنکھوں میں یوں تیر رہی تھیں جیسے ڈوبتے ہوئے آدمی کو پانی کے اندر کہیں دور جلتے چراغ دکھائی دیتے ہیں
پچیس برس…
پچیس برس کوئی معمولی عرصہ نہیں تھا
اتنے عرصے میں درخت سایہ دار ہو جاتے ہیں
دریا اپنا رُخ بدل لیتے ہیں
سہاگ اُجڑ جاتے ہیں
اور بچے اپنے باپ کی شکل بھول جاتے ہیں
میں نے پیشانی شیشے سے لگا دی
دل کے اندر کہیں ایک بوسیدہ دروازہ آہستہ آہستہ کُھل رہا تھا اور اُس دروازے کے پیچھے میرا بچھڑا ہوا زمانہ گھٹنوں میں سر دیے سسکیاں بھر رہا تھا
ائیرپورٹ کی زمین پر پہلا قدم رکھتے ہی ایک عجیب اپنائیت نے مجھے گھیر لیا
یہ وہی مٹی تھی جسے چھوڑتے وقت میں نے مُڑ کر دیکھا بھی نہیں تھا
ہجرت کرتے وقت عمومی طور پر یہ گمان ہوتا ہے کہ دو تین سال بعد واپسی ہو ہی جاۓ گی
مگر میری ہجرت جبری دربدری تھی جو واپسی کے دروازے بند ہونے پر ہوئی تھی
مجھے یقین تھا اب میں کبھی لوٹ کر نہیں آ سکوں گا
میں نے گھر سے نکلتے وقت گھر کی ایک ایک چیز کو حسرت سے دیکھتے ہوئے سو سو بار چھوا تھا لمبے لمبے سانس لے کر اپنے پھیپھڑوں میں اتنی آکسیجن بھرنا چاہی تھی جو زندگی کی آخری سانس تک چل سکے
امیگریشن افسر نے پاسپورٹ پر نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا
آپ پہلی بار پاکستان آئے ہیں؟
میں نے عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے دھیرے سے گردن ہلائی
کچھ سوالوں کے جواب لفظوں میں نہیں دیئے جا سکتے
صرف آنکھیں دیتی ہیں
اور میری آنکھیں برسوں سے تھکی ہوئی تھیں
اپنا بیگ سنبھالے ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہوئے آنکھوں میں دُھند بھر رہی تھی
ٹیکسی سٹینڈ تک آتے ہوۓ جانے کتنی بار میں نے پلٹ پلٹ کر ائیرپورٹ کو دیکھا
Sialkot international airport
ائیرپورٹ کی پیشانی پر لکھے اس جملے میں ایک عجیب سی سَرخوشی تھی
گاؤں جانے کے لئے ٹیکسی والے سے بات طے کی اور ٹیکسی میں بیٹھ گیا
سرد شیشے سے سر ٹکائے میں راستہ دیکھتا رہا
سڑکیں بدل چکی تھیں
درخت کم ہو گئے تھے
کھیت سُکڑ گئے تھے
ندی نالوں کے کنارے اُجڑ گئے تھے
فرق پڑا تھا تو صرف اتنا کہ زرعی زمینوں کو فیکٹریوں اور کارخانوں نے کھا لیا تھا
جہاں لہلہاتی دھان اور گندم کی فصلیں رزق کی بالیاں اُٹھاۓ فخر سے کھڑی ہوتی تھیں اب وہاں کارخانوں اور فیکٹریوں کی چمنیاں دھواں اُگل رہی تھیں
وقت شاید سب سے پہلے زمین کے چہرے پر حملہ کرتا ہے
یہ سارا علاقہ میرا اپنا تھا میری جوانی کے پندرہ سال اسی سڑک پہ سفر کرتے گزرے تھے
گنہ کلاں، بڈیانہ، پورب، کھوئی سٹاپ، لنگے، منجکے اور پھر سراۓ شاہ فتح میرا جی چاہا میں سراۓ شاہ فتح اُتر جاؤں اور پچیس سالوں بعد آج پھر ساڑھے تین میل کا سفر پیدل کر کے ویسے ہی گاؤں جاؤں جیسے میں پچیس سال پہلے یہاں سے پیدل گاؤں جایا کرتا تھا
ٹیکسی میرے گاؤں جانے والے کچے رستے پہ دھول اُڑاتی بھاگ رہی تھی میں نے ڈرائیور کے ہاتھ پہ اپنا کانپتا ہوا ہاتھ رکھا اور دھیرے سے کہا
بیٹا ذرا آہستہ چلو
میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ بیریوں کے وہ ننھے پودے اب بھی زندہ ہیں یا وقت اُنہیں بھی کھا گیا ہے
ڈرائیور میری بات پہ مُسکرایا اور اُس نے گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوۓ پوچھا
آپ کتنے سالوں بعد آۓ ہیں؟
پچیس سال بعد۔۔۔۔
ڈرائیور نے ایک دم ہاتھ کھینچا اور میری طرف حیرت سے دیکھتا ہوا بولا
اب کون منتظر ہو گا آپ کا
میری ماں
ماں زندہ ہے اور آپ پھر بھی پچیس سالوں بعد آۓ ہیں
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا
گاؤں کا پہلا موڑ مُڑتے ہوۓ میں نے آنکھیں صاف کیں اور ڈرائیور سے کہا یہ جو سامنے ٹیلہ نظر آ رہا ہے ناں وہاں میرے بابا کی قبر ہے
گاڑی وہیں لے چلو میں سب سے پہلے اپنے بابا سے ملنا چاہتا ہوں اُن سے اپنے جُرموں کی معافی مانگنا چاہتا ہوں
گاڑی نے موڑ مُڑا اور قبرستان کے ٹھیکریوں بھرے رستے پر چلنے لگی
میرا دل عجب بے ترتیبی سے دھڑکنے لگا تھا
چھوٹا سا قبرستان اب بہت پھیل گیا تھا
ہوا میں مٹی گھاس اور پُرانی خاموشی کی مہک گُھلی ہوئی تھی
شام کا نارنجی سورج مغرب کی اوٹ میں ڈوب رہا تھا اور میں قبروں کے درمیان تیز قدموں سے چلتا جُھکتی ہوئی نگاہ کے ساتھ اپنے بابا کے نام کا کتبہ تلاش کر رہا تھا
میری ڈبڈبائی آنکھوں میں بابا کی تصویر اُبھرتی اور پھر پانی میں تیرنے لگتی
ان کے آخری ایام میں سب گھر والے ان کے اردگرد موجود تھے
صرف میں نہیں تھا
میں ہزاروں میل دور سے انہیں ویڈیو کال کے ذریعے دیکھتا انہیں جلد سے جلد ٹھیک ہونے کی تسلی دیتا ڈاکٹر اور نرسوں سے خود فون پر بات کرتا
میں پانی کی طرح پیسہ بہا کر اُنہیں بچا لینا چاہتا تھا
دن بدن گرتی ہوئی صحت دیکھ کر ہسپتال بدلتا رہا پسرور، سیالکوٹ، نارووال اور پھر لاہور وہ دن بدن نحیف ہوتے جا رہے تھے
میں جب بھی بات کرتا وہ کہتے یار پریشان نہ ہوں میں بالکل ٹھیک ہوں
میں جانتا تھا وہ ٹھیک نہیں ہیں وہ صرف مجھے حوصلہ دیتے مجھ سے اپنا درد چھپاتے میں بھی مُسکرا کر اُن سے بات کرتے ہوۓ تسلی دیتا اور پھر کال کٹتے ہی گھر کے کسی کونے میں بلک بلک کر رو لیتا
کئی دن ICU میں گزارنے کے بعد انہیں وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ڈاکٹر مطمئن تھے
میری بہنیں جو مسلسل اُن کے ساتھ ہسپتال میں موجود رہیں اب واپسی کی تیاری کر رہی تھیں ہسپتال میں کام کرتے عملے کو اُن کی صحت یابی کی خوشی میں مٹھائی اور پیسے دیئے جا رہے تھے مگر بابا نے اچانک کہیں اور جانے کے لئے رختِ سفر باندھ لیا
وہ میری بڑی بہن کی گود میں سر رکھے چپ چاپ انجانی منزلوں کی جانب روانہ ہو گئے۔
خوشی بھرے چہرے اُس دن غم سے نڈھال ہو گئے
میری بہنیں اور اماں جی بھر کر روئیں
میں نے اپنے بابا کے مُسکراتے ہوئے چہرے کو آخری بار اُس وقت ویڈیو کال پہ دیکھا تھا جب وہ چارپائی پہ لیٹے ہوئے اپنی آخری منزل کی جانب روانہ ہو چکے تھے
وہ میری اماں اور بہنوں کے سینہ چیر دینے والے بین سُن کر بھی مسکرا رہے تھے
انہیں ڈاکٹروں اور نرسوں کے انجیکشنوں سے نجات ملنے کی خوشی تھی کہ ICU کے گھٹن زدہ ماحول میں وینٹی لیٹر کے مصنوعی سانس سے گھر کی کُھلی فضا میں آنے کے اپنے فیصلے کے مسلط ہونے کا چاؤ
اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچنے کی خوشی ہو رہی تھی یا اِس دنیا سے باعزت رخصت پر
میں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا
گھر سے قبرستان کا فاصلہ ایک کلومیٹر سے کچھ زائد ہی ہے جو انہوں نے چار کندھوں کے سہارے عبور کیا میں نے اس دوران بس ایک بار کچھ سیکنڈ کی کال کی تھی وہ محوِ استراحت سفر میں تھے
پھر جیسے ہمت ہی نہ ہوئی حوصلے نے ساتھ چھوڑ دیا
نہ انہیں جنازے کے وقت دیکھا نہ قبر میں اُترتے نہ لحد بنتے
وہ گھر سے نکلے تو میں نے اُنہیں دل پہ بٹھا لیا
قبرستان کی خاموش فضا میں شام پوری طرح اُتر چکی تھی
نرم و ملائم ہوا کے جھونکوں سے قبرستان میں موجود بیریوں اور پیپل کے بکھرے پتے قبروں کے درمیان بھاگ رہے تھے
میں بابا کی آخری آرام گاہ تلاش کرتا عین اُس جگہ پہنچ چکا تھا جہاں بابا اپنے دو بھائیوں کے ساتھ آرام فرما رہے تھے
گاؤں کی مسجد سے مغرب کی اذان کی مدھم آواز ہوا میں تیر رہی تھی اور میں اپنے بابا کی قبر کے سرہانے بیٹھا دونوں ہاتھوں سے مٹی تھامے بچوں کی طرح رو رہا تھا
پچیس سال…
پچیس سال بعد بھی مٹی نے مجھے پہچان لیا تھا
میں نے کانپتے ہاتھوں سے قبر کی گھاس صاف کی
کتبے پر جمی گرد اُنگلیوں سے ہٹائی اور بہت دھیرے سے کہا
“بابا میں آ گیا ہوں”
ہوا یک دم ٹھنڈی ہو گئی
جیسے کسی نے میرے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دیا ہو
قبر کی پائنتی اُگے ہوۓ گلاب کے پھول جھوم رہے تھے
میں دیر تک قبر کے پاس بیٹھا رہا
اپنے سارے گناہ، ساری مجبوریاں، ساری ہجرتیں ایک ایک کر کے اُس مٹی کے حوالے کرتا رہا جس کے نیچے میرے بابا سو رہے تھے
بابا میں کبھی آپ کا نافرمان نہیں تھا میں نے سب زنجیریں توڑ کر بھاگنا چاہا مگر بابا مجھ سے ایسا ہو نہیں پایا
میں بابا کی پائینتی سر رکھے بولتا رہا
ہوا کے جھونکوں میں تیزی آ گئی تھی اور میرے بال بکھر رہے تھے ایسے لگ رہا تھا جیسے ہوا نہیں میرے بابا میرے بالوں کو سہلا سہلا کر پوچھ رہے ہوں
کوئی اتنی بھی دیر کرتا ہے یار
اولاد تو بڑھاپے کا سہارا بنتی ہے یار تم کیسے سہارے تھے جو مجھے کبھی سہار ہی نہ سکے
جن دنوں تمہاری ضرورت تھی تم مجھے فون پہ ہی ٹرخاتے رہے
تمہیں پتا ہے میں نے آخری سانس تک تمہارا انتظار کیا
بابا مجھے سینے پہ لٹائیں میرا سینہ پھٹ رہا ہے
میں بابا کی قبر پر لیٹ گیا
کتنی ہی دیر میرے پھیلے ہوۓ بازو بابا کی قبر کو بابا کا وجود سمجھ کر لپٹتے رہے
بابا کے سینے سے اُٹھ کر باری باری تایا اور چچا کی قبروں کے پائنتی بیٹھ کر اُن سے اُن کی آخری رسومات میں شامل نہ ہونے کی معافی مانگی
اور پھر نانا کی قبر پر جیسے ڈھہ گیا
میرے بابا سے زیادہ میرے ناز میرے نانا جان نے اُٹھاۓ تھے
میرا بچپن اُن کے کاندھوں پر گزرا تھا
سفر پہ نکلنے سے پہلے اُن کی قبر پر حاضری نہ دے سکا تھا
کتنی ہی دیر اُن سے باتیں ہوتی رہیں پردیس کی کتنی ساری کہانیاں کتنے سارے دکھ اُن کو سنائے
کئی بار ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور پھر کبھی دور نہ جانے کا عہد کر کے اُٹھ کھڑا ہوا
ڈرائیور فاصلے پر خاموش کھڑا تھا
شاید وہ سمجھ گیا تھا بعض ملاقاتوں میں کسی تیسرے آدمی کی موجودگی بے ادبی ہوتی ہے
رات کی سیاہی پھیلنے لگی تو میں نے کپکپاتے قدموں سے قبرستان سے باہر نکلتے ہوۓ ایک بار پلٹ کر دیکھا
ایسے لگا جیسے بابا کہہ رہے ہوں اب آ گئے ہو تو واپس مت جانا یار
میرا سینہ ہچکیوں سے بھر گیا
ڈرائیور جو اب تک خاموش کھڑا تھا آگے بڑھا اور مجھے سنبھالتے ہوۓ گاڑی تک لے آیا
میں روتا ہوا بابا کو الوداع کرتا ہاتھ ہلاتا رہا
گاؤں اب ایک کلومیٹر سے کچھ کم فاصلے پر رہ گیا تھا
گاڑی گاؤں کی طرف مُڑ کر اُس برساتی نالے کے پُل پر آ گئی تھی جو میرا بچپن کا دوست تھا جہاں میں نہایا کرتا تھا
میں نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کا کہا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آیا
مشرق سے مغرب کی جانب بہنے والے اس نالے کے پُل پر کھڑے ہو کر میں نے سمت کا تعین ایسے کیا جیسے کسی نئی جگہ پہ نماز پڑھنے سے پہلے قبلے کا درست تعین کیا جاتا ہے
میں کبھی مشرق سے پُل کے درے دیکھتا کبھی مغرب سے پُل ویسا ہی تھا جیسے آج سے پچیس سال پہلے تھا البتہ اُس کے چہرے پر بھی وقت جُھریاں لے آیا تھا
میں نے ڈرائیور کو اس سے طے کیے گئے پیسوں سے کچھ زیادہ دیئے اور اُسے جانے کا کہا
وہ پیسے پکڑتا ہوا میری طرف حیرت سے دیکھنے لگا
سر۔۔۔
آپ گاڑی میں بیٹھیں میں گھر تک چھوڑ آتا ہوں
نہیں آپ جاؤ بیٹا میں چلا جاؤں گا
میں نے گاڑی کی ڈکی سے اپنا بیگ نکالا اور الوداعی ہاتھ ہلا کر گاؤں کی جانب قدم بڑھا دیئے
ڈرائیور ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا گاڑی کی ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں چلتے ہوۓ مجھے دیکھتا رہا
گاؤں کی حدود شروع ہو چکی تھی
بائیں جانب جہاں چند گھر ہوتے تھے اب وہاں پورا گاؤں آباد ہو چکا تھا یہ سارے گھر میرے عزیز و اقارب کے تھے
میرے بابا کے کزنز اور ان کی اولادیں اور اب تو ان کی اولادوں کی اولادیں بھی اپنے اپنے گھر بنا چکی تھیں
میرا جی چاہا
اپنے سب رشتے داروں کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر انہیں گلے لگا لگا کر ملوں
پھر یہ سوچ کر کہ سب سے پہلے مجھے اپنی بوڑھی اماں سے ملنا ہے سیدھا اپنے گھر کی جانب چلتا رہا
دائیں بائیں خالی پڑی جگہوں پر شاندار کوٹھیاں کھڑی تھیں
گاؤں میں داخل ہوتے ہی وقت جیسے اُلٹا چلنے لگا
وہی دیواریں
وہی دروازے
وہی راستے
بس سب کچھ بوڑھا ہو گیا تھا
بالکل میری طرح
ایک جگہ کچھ نوجوان کھڑے تھے میرے ہاتھ میں سفری بیگ دیکھ کر وہ میری طرف متوجہ ہوۓ
انکل
آپ مہمان ہیں کس کے گھر جانا ہے
میرا جی چاہا چیخ چیخ کر رؤوں جس گاؤں کی پہچان میں اور میری شاعری تھی وہی گاؤں مجھے پہچاننے سے انکاری تھا
میں نے اپنے بڑے بیٹے کا نام لے کر کہا مجھے زرنین کے گھر جانا ہے
انکل۔۔۔۔
وہ تو پوری فیملی کئی سال پہلے اٹلی شفٹ ہو گئی تھی
میں نے آہستہ سے سانس کھنیچی اور کہا بیٹا زرنین کی دادی تو یہیں ہوتی ہیں ناں
جی انکل وہ یہیں رہتی ہیں
میں اُنہی سے ملنے آیا ہوں
نوجوان راستے سے ہٹ گئے
انکل کیا آپ کو ان کے گھر کا پتا معلوم ہے یا ہم چھوڑ آئیں
ایک لڑکے نے احتراماً ہاتھ سینے پہ باندھ کر اہستگی سے پوچھا
اپنا گھر کون بھول سکتا ہے بیٹا
اپنے گھر کے در و دیوار سے ہی باپ کی خوشبو آنے لگتی ہے
لڑکے کچھ سمجھ پاۓ کہ نہیں مگر میں نے اپنے قدم اپنے گھر کی جانب بڑھا دیئے تھے
گھر کے سامنے پہنچ کر میرا دل اتنی زور سے دھڑکنے لگا جیسے سینے سے باہر آ جائے گا
گیٹ بند تھا
گزرتے وقت نے پینٹ پر کشیدہ کاری کے کئی ہنر دکھا رکھے تھے
میں نے لرزتے ہاتھ سے بابا کے نام کی تختی کو چھوا
نام اب بھی موجود تھا
بس وقت نے اُس پر گرد کی دبیز تہہ جما دی تھی
آنکھیں دھندلا گئیں
میں نے دروازے پر دستک دی
اندر سے کھانسی زدہ آواز سنائی دی
کون ایں
میں نے دوبارہ دستک دی
پھر ٹوٹتی ہوئی آواز آئی
“کون ایں؟
میری سانس رُک گئی
پچیس برس کی مسافت اچانک میرے حلق میں اٹک گئی
میں چاہتا تھا زور سے کہوں
“اماں میں میثم”
مگر آواز ساتھ چھوڑ گئی
دوبارہ دستک دی
اندر سے پاؤں گھسیٹنے کی آہٹ قریب آنے لگی
گیٹ کی کنڈی کُھلی
پھر ٹھک کی آواز کے ساتھ گیٹ آہستہ سے کُھلا
سامنے میری اماں کھڑی تھیں
بہت چھوٹی… بہت کمزور…
وقت نے جیسے اُن کے جسم سے سارا گوشت نچوڑ لیا تھا
آنکھوں پر موٹا چشمہ
سر پر سفید دوپٹہ
جھکی ہوئی کمر
اور چہرے پر صدیوں کا انتظار
وہ چند لمحے مجھے پہچان نہ سکیں
میں بھی کہاں وہی رہا تھا
میں نے بمشکل کہا
“اماں…”
اُن کے ہاتھ سے گیٹ چھوٹ گیا
چشمے کے پیچھے آنکھیں کانپنے لگیں
“میثم…؟”
پُتر تُوں۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر پچیس سال کا فاصلہ ٹوٹ کر ہمارے قدموں میں بکھر گیا
وہ میرے سینے سے لگ کر ایسے روئیں جیسے کسی ماں کا جوان بیٹا جنگ سے واپس آیا ہو
“ہائے میرا پُتر…
ہائے میرا میثم…
میں اُن کے قدموں میں بیٹھ گیا
اُن کے ہاتھ چومنے لگا
وہ میرے بالوں میں ہاتھ پھیرتی جاتیں اور روتی جاتی تھیں
گھر کے در و دیوار خاموش کھڑے ہمیں دیکھ رہے تھے
صحن کے بیچوں بیچ وہی لسوڑے کا پیڑ تھا
کونے میں رکھی وہی چارپائی
اور دیوار پر اب بھی بابا کا عصا لٹک رہا تھا
میں لڑکھڑاتے ہوئے اُس عصا کے پاس گیا
اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑا
آنکھوں سے لگایا
عصا سے اب بھی کھیتوں کی مٹی اور بابا کے ہاتھوں کی مہک آ رہی تھی
میں ٹوٹ گیا
واقعی ٹوٹ گیا
اماں میرے قریب آ بیٹھیں
“پُتر… اتنے سال لگا دیئے…؟
میں نے اُن کے جھریوں زدہ ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لئے
بعض سوالوں کے جواب انسان کے پاس نہیں ہوتے
صرف آنسو ہوتے ہیں
اُس رات ہمارے گھر میں پچیس سال بعد پہلی بار اتنے آنسو بہے کہ صحن کی خشک مٹی تک نم ہو گئی۔
میثم علی آغا






