آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعثمان علوی
ماورائے رم و رفتار گزرتی ہوئی شام
عثمان علوی کی ایک اردو غزل
ماورائے رم و رفتار گزرتی ہوئی شام
سانس لیتی ہوئی سینے میں اترتی ہوئی شام
اور سے اور ہوا جاتا رہا رنگ شفق
کیا کسی شانے پہ سمٹی ہے بکھرتی ہوئی شام
آنکھ کے گرد سیاہی سی اتر آتی ہوئی
اور کہیں دور بہت دور ٹھہرتی ہوئی شام
کیا علاقہ ہے کہ اک جست پہ موقوف ہوا
کیا خبر جی اٹھے اک آن میں مرتی ہوئی شام
کیا خبر ہے کہ مرے دل میں اچانک آ جائے
اور تھم جائے ٹھٹھرتی ہوئی ڈرتی ہوئی شام
اس بہاؤ میں بہے جانے سے کیا روکے گی
اک سیہ پھول سا دہلیز پہ دھرتی ہوئی شام
خواب آثار ہوئے جانے لگے ہیں در و بام
کیسی وحشت لیے پھرتی ہے ابھرتی ہوئی
عثمان علوی








