آپ کا سلاماردو غزلیاتحسن فتحپوریشعر و شاعری

اتنا نڈھال دل تری فرقت میں ہو گیا

ایک اردو غزل از حسن فتحپوری

اتنا نڈھال دل تری فرقت میں ہو گیا
جیسے کہ روتے روتے کوئی طفل سو گیا

یہ عشق ہے، جنون ہے، کیا ہے تمہیں کہو
دل تم سے مل کے اور بھی بےچین ہو

اسکا ہو ذکر میری عبادت میں، اس لئے
تسبیح دل میں اشکوں کے موتی پرو گیا

مدت ہوئی کہ یار نہ آیا کوئی مجھے
پھر کس کا غم تھا جو مرا دامن بھگو گیا

جس نے کہا تھا ساتھ گزاریں گے ساری عمر
اس زندگی کی بھیڑ میں وہ شخص کھو گیا

جو بھی ‘حسن’ ملا ہے محبت کی راہ میں
دل کی زمیں میں درد کے کچھ بیج بو گیا

حسن فتحپوری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button