- Advertisement -

رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ

میر تقی میر کی ایک غزل

رہ مرگ سے کیوں ڈراتے ہیں لوگ
بہت اس طرف کو تو جاتے ہیں لوگ

مظاہر سب اس کے ہیں ظاہر ہے وہ
تکلف ہے یاں جو چھپاتے ہیں لوگ

عجب کی جگہ ہے کہ اس کی جگہ
ہمارے تئیں ہی بتاتے ہیں لوگ

رہے ہم تو کھوئے گئے سے سدا
کبھو آپ میں ہم کو پاتے ہیں لوگ

اس ابرو کماں پر جو قرباں ہیں ہم
ہمیں کو نشانہ بناتے ہیں لوگ

نہ سویا کوئی شور شب سے مرے
قیامت اذیت اٹھاتے ہیں لوگ

ان آنکھوں کے بیمار ہیں میر ہم
بجا دیکھنے ہم کو آتے ہیں لوگ

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل