آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری

مسلسل نیا الزام میرے سر ہوتا ہے

نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل

مسلسل نیا الزام میرے سر ہوتا ہے
عشق میں ہی فقط یہ تحفہ نظر ہوتا ہے

اس کا مسئلہ ہے ہماری عادتیں نہیں ملتی
اسے بتاؤ جدا ارکان میں ہی گھر ہوتا ہے

لڑتا رہا میں ہر سنگ راہ سے مگر
گمراہوں کے ساتھ کب مکمل سفر ہوتا ہے

کیا ہوا ؟ ہو گیا ہوں اگر میں تمہارے جیسا
صحبت کا بھی تو میری جان اثر ہوتا ہے!

تجھ سے بچھڑے تب جاکر معلوم ہوا ہے
ہجر سے گزرے ،تو ہی بندہ گوہر ہوتا ہے

برسوں کی تھکان کو پل میں جدا کر دے
فقط محبوب کی آواز میں وہ ہنر ہوتا ہے

عمر ایسی ہے کہ ہر بات دل کو لگتی ہے
جو درد اُدھر نہیں ہوتا ، اِدھر ہوتا ہے

نگار فاطمہ انصاری

post bar salamurdu

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری قلمی نام ہے ۔ تعلق یوپی کے مرادآباد ضلع سے ہے - اور 2024 میں شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button