آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے
ترے وصال کا اک زائچہ بناتے ہوئے

میاں یہ عشق ہے اور ہجر پالتا ہے اسے
تو رو پڑے گا مرا صبر آزماتے ہوئے

تمام رات ترا حسن ان سے ذکر کیا
یہ چاند تارے گئے صبح تلملاتے ہوئے

کوئی تو بات اضافی بھی یاد آ رہی ہے
اٹک رہے ہو مرا واقعہ سناتے ہوئے

پھر ایک روز گلے آ لگا یہ کہتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں تجھے روز یاد آتے ہوئے

تو ہاتھ کاتب تقدیر کے نہ کانپے کیا
ہمارے بیچ میں دیوار کو اٹھاتے ہوئے

وہ میری آنکھ میں بس عکس دیکھتا ہے ترا
ستارہ ساز ، ستارہ نیا بناتے ہوئے

مجھے تو یار ہٹائیں کہ ریل گاڑی ہے
میں دیکھتا ہوں اسے سامنے سے آتے ہوئے

بچھڑتے وقت دکھایا یہ میرا مسلک ہے
کہ مڑ کے دیکھنا واجب نہیں ہے جاتے ہوئے

یہ صرف ذوق سخن لگ نہیں رہا اظہر
وہ رو پڑا تھا مرا شعر گنگناتے ہوئے

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button