ہمارے بیچ کا رشتہ سمجھ لو
اسے آنکھیں مجھے سپنا سمجھ لو
سمجھتے ہو اگر خود کو کنارہ
مجھے ایسا کرو دریا سمجھ لو
نہیں پڑتا مجھے اب فرق کوئی
برا سمجھو کہ پھر اچھا سمجھ لو
کھلونا سمجھا جس نے تم کو اب تک
چلو تم بھی اسے بچہ سمجھ لو
یہ ہمدردی تو فطرت ہے ہماری
بتا دوں تم نہ جانے کیا سمجھ لو
کبھی پورے نہیں ہوتے جو سپنے
مجھے بھی تم وہی سپناؔ سمجھ لو
سپنا مولچندانی








