اردو غزلیاتسپنا مولچندانیشعر و شاعری

ہمارے بیچ کا رشتہ سمجھ لو

سپنا مولچندانی کی ایک اردو غزل

ہمارے بیچ کا رشتہ سمجھ لو
اسے آنکھیں مجھے سپنا سمجھ لو

سمجھتے ہو اگر خود کو کنارہ
مجھے ایسا کرو دریا سمجھ لو

نہیں پڑتا مجھے اب فرق کوئی
برا سمجھو کہ پھر اچھا سمجھ لو

کھلونا سمجھا جس نے تم کو اب تک
چلو تم بھی اسے بچہ سمجھ لو

یہ ہمدردی تو فطرت ہے ہماری
بتا دوں تم نہ جانے کیا سمجھ لو

کبھی پورے نہیں ہوتے جو سپنے
مجھے بھی تم وہی سپناؔ سمجھ لو

سپنا مولچندانی

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button