رسوؐلِ اکرم ، شفیعِ محشرؐ سبھی جہانوں کی ہیں حقیقت
جو اُنؐ کو اپنے قریں نہ سمجھے، خدا سے کیسی ہے اُس کی نسبت؟
عجب سماں تھا ، وہ کیا گھڑی تھی کہ سرخ پوشاک میں تھے ملبوس
خدا ہے شاہد کہ چاند سے بڑھ کے خوبصورت تھی اُنؐ کی صورت
ازل ، ابد کی تمام باتیں بتاؤ کس نے بتائیں تم کو ؟
یہ چوں چرا کا محل نہیں ہے، وہی ﷺ ہیں معلول اور علّت
نظر جھکائے صحابہ اُنؐ کے، ادب سے دیکھو کھڑے ہیں کیسے
خدا ہے کہتا میں ان سے راضی وہ مجھ سے راضی ، ہے یہ حقیقت
یہاں سے پہلے جہاں پہ تھے ہم ، یہاں کے بعد اب جہاں ہے جانا
ہر اک جگہ ہے اُنہیؐ کا چرچا ، اُنہیؐ کی شوکت ، اُنہیؐ کی شہرت
ہے کتنا خوش بخت ابنِ ؔساقی! کہ پڑھ رہا ہے وہ نعت اُنؐ کی
جو روزِ محشر ہیں سب کے ملجا، کریں گے اس کی بھی وہؐ شفاعت
حسن ابن ساقی







