آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون
پُھول اور تِتلی، رنگ اور خُوشبُو
ایک اردو غزل از عُظمی جٙون
پُھول اور تِتلی، رنگ اور خُوشبُو باندھ دیئے
اُس نے سب پر کر کے جادُو باندھ دیئے
پاگل دل پر پا کر قابو باندھ دیئے
ہم نے سب جذبات کے آہُو باندھ دیئے
ہم کو تھا درپیش سفر اندھیاروں کا
اُس نے اِک رُومال میں جُگنُو باندھ دیئے
ہم نے اس کی بھیگی پلکیں پَونچھیں اور
چُنّی کے پلّو میں آنسُو باندھ دیئے
پہلے اُس کے بال بکھیرے مستی میں
پھر ہم نے کچھ سوچ کے گیسُو باندھ دیئے
سر سے آنچل کھینچ کے بِنتِ ہَوّا کا
پیروں میں حالات نے گھنگھرُو باندھ دیئے
عُظمی جٙون








