اردو غزلیاتانور شعورشعر و شاعری

کچھ لکیریں روز نقشے سے مٹا دیتی ہے آگ​

انور شعورکی ایک اردو غزل

کچھ لکیریں روز نقشے سے مٹا دیتی ہے آگ​
کیسے کیسے شہر مٹّی میں ملا دیتی ہے آگ​
​
زندہ رہنا، جلتے رہنے کے برابر ہے مگر​
زندگی اک آگ ہے کندن بنا دیتی ہے آگ​
​
جو کلی کھلتی ہے کیاری میں، جلا دیتی ہے دھوپ​
جو دیا جلتا ہے دھرتی پر، بجھا دیتی ہے آگ​
​
ایک بچہ بھی ملا جھلسے ہوئے افراد میں​
پیڑ کے ہمراہ گُل بوٹے جلا دیتی ہے آگ​
​
یاد اب اوّل تو آتی ہی نہیں اُس کی شعورؔ​
اور آتی ہے تو سینے میں لگا دیتی ہے آگ​
​

انور شعور

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button