آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں

رشید حسرت کی ایک اردو غزل

میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں
عمیق درد کی گہرائیوں میں رکھتا ہوں

گداز طبع کو تو کھینچ لوں گا اپنی طرف
گھمنڈیوں کو میں سودائیوں میں رکھتا ہوں

وہ زر پرست جو رانجھے سے ہیر چھینتے ہیں
تو اپنی چیخ سی شہنائیوں میں رکھتا ہوں

فقط اجالا نہیں راس میری آنکھوں کو
رمق اندھیرے کی بینائیوں میں رکھتا ہوں

وہ میرا دوست ہو، دشمن کہ ہو سگا بھائی
میں خود پرست کو ہرجائیوں میں رکھتا ہوں

کروں میں کیا کہ یہ برداشت میرا شیوہ ہے
ملال جتنا ملے کھائیوں میں رکھتا ہوں

جو سچ کہوں تو دھنک ان کے دم قدم سے ہے
میں اپنے شعروں کو انگڑائیوں میں رکھتا ہوں

سبھی کو دعویٰ تھا، آیا تھا مجھ پہ وقت کٹھن
رہے جو ساتھ، انہیں بھائیوں میں رکھتا ہوں

رشیدؔ تن پہ جو مزدور کے سجی ہے میاں
پھٹی قمیص کو زیبائیوں میں رکھتا ہوں

رشید حسرتؔ

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button