- Advertisement -

کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا

قمر رضا شہزاد کی اردو غزل

کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا

یہ فقیر اب تری چال میں نہیں آئے گا

میں منا تو لوں گا اسے مگر وہ انا پرست

مری سمت اب کسی حال میں نہیں آئے گا

میں کہوں گا حرف طلب کچھ ایسے کمال سے

مرا درد میرے سوال میں نہیں آئے گا

کبھی اپنی ایک جھلک مجھے بھی نواز دے

کوئی فرق تیرے جمال میں نہیں آئے گا

یہی محنتوں کا صلہ رہا تو پھر اے خدا

مجھے لطف رزق حلال نہیں آئے گا

قمر رضا شہزاد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل