آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

نظر اس رخ پہ جب ہم نے جمائی

ایک اردو غزل از رشید حسرت

نظر اس رخ پہ جب ہم نے جمائی
تو باڑ اک اس نے بیچوں بیچ اٹھائی

اتر کر آپ گاڑی سے گئے کیا
اداسی آ کے پہلو میں سمائی

رہِیں چمگادڑیں آنکھوں میں شب بھر
ہنسی بے شرم شبنم نے اڑائی

یہ کیسے مرحلے پر لا کے چھوڑا
گڑھا آگے ہے اپنے پیچھے کھائی

نکل کر گر پڑا قدموں میں دل ہی
چلے تھے دل کی ہم کرنے صفائی

لچک تھوڑی رویّے میں ہے لازم
سبھی دیتے جو ہیں تیری دہائی

ابھی حسرتؔ ہیں زد میں آفتوں کی
مقدّر سے ہماری بن نہ پائی

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۷، مارچ ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button