اردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

بچھی رہتی ہے سارا سال جس پر برف کی چادر

افتخار شاہد کی ایک اردو غزل

بچھی رہتی ہے سارا سال جس پر برف کی چادر
اُسی کہسار سے دریاوں کے دھارے نکلتے ہیں

بھری دوپہر میں جزبوں کی تو نے شام کر ڈالی
خبر نہ تھی کہ اس بستی میں سورج یوں بھی ڈھلتے ہیں

سنو! یہ ڈوبتا سورج ہمیں پیغام دیتا ہے
چلو اب شام ڈھلتی ہے چلو اب گھر کو چلتے ہیں

اجالا روز ہوتا ہے دلِ برباد میں شاھد
منڈیروں پر تری یادوں کے دیپک اب بھی جلتے ہیں

افتخار شاہد

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button