آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

مشکل وقت میں کیا کریں؟

محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر

زندگی کبھی ہموار سڑک کی طرح سیدھی نہیں چلتی۔ کبھی حالات کی دھوپ اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ انسان کے وجود کی نمی تک خشک ہونے لگتی ہے اور کبھی غم کی بارش مسلسل برستی رہتی ہے۔ مشکل وقت دراصل انسان کی شخصیت کا امتحان ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے اندر چُھپا ہوا حوصلہ جاگتا ہے یا وہ مایوسی کی دلدل میں اُتر جاتا ہے۔ دُنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس نے تکلیف، شکست، محرومی یا تنہائی نہ دیکھی ہو۔ انسان زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر اندھیروں سے گزرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اندھیروں کو اپنی قسمت سمجھ لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ انہی اندھیروں میں روشنی تلاش کر لیتے ہیں۔
مشکل وقت میں سب سے پہلی ضرورت صبر کی ہوتی ہے۔ صبر وہ چراغ ہے جو طوفان میں بھی حوصلہ بجھنے نہیں دیتا۔ حضرت علیؓ کا قول ہے:” صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جسے انسان پسند نہیں کرتا مگر برداشت کرتا ہے اور دوسرا وہ جس پر انسان اللہ کی رضا کے لیے قائم رہتا ہے”۔ یہی صبر انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب حالات انسان کے خلاف ہو جائیں تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ جیسے رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے ویسے ہی مشکلات کے بعد آسانی بھی آتی ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:” بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے”۔ یہ آیت انسان کے دل میں اُمید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔
مشکل وقت میں انسان کو سب سے زیادہ اپنے ذہن کو سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر لوگ مصیبت آتے ہی گھبرا جاتے ہیں۔ وہ مسئلے کو اتنا بڑا بنا لیتے ہیں کہ ان کے اندر لڑنے کی طاقت باقی نہیں رہتی۔ حقیقت یہ ہے کہ آدھا مسئلہ انسان کے خوف میں چھپا ہوتا ہے۔ اگر انسان دل مضبوط کر لے تو بڑی سے بڑی مشکل بھی چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہے۔ محاورہ ہے کہ "ہمت مرداں مدد خدا”۔ دُنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ گزرے ہیں انہوں نے سخت حالات کا سامنا کیا لیکن ہار نہیں مانی۔
نیلسن منڈیلا نے ستائیس برس جیل میں گزارے مگر اُمید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ رہائی کے بعد انہوں نے کہا کہ "میں نے سیکھا کہ بہادری خوف کا نہ ہونا نہیں بلکہ خوف پر قابو پانا ہے”۔ اسی طرح ہیلن کیلر جو نابینا اور گونگی تھیں انہوں نے کہا کہ "زندگی یا تو ایک بہادرانہ مہم ہے یا پھر کچھ بھی نہیں”۔ یہ لوگ اس بات کی مثال ہیں کہ انسان اگر خود پر یقین رکھے تو پہاڑ جیسی مشکلات بھی ریت کی دیوار بن جاتی ہیں۔
مشکل وقت میں انسان کو تنہائی سے بچنا چاہیے۔ غم جب دل میں بند ہو جائے تو زہر بن جاتا ہے۔ مشکل وقت میں قابلِ اعتماد لوگوں سے بات کرنا دل کا بوجھ کم کرتا ہے۔ بعض لوگ دُکھ میں خود کو دُنیا سے کاٹ لیتے ہیں۔ وہ خاموشی کی چادر اَوڑھ لیتے ہیں مگر اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔ انسان سماجی مخلوق ہے، اسے محبت، سہارے اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک جملہ انسان کو ڈوبنے سے بچا لیتا ہے۔ جیسے خشک زمین پر بارش کے چند قطرے نئی زندگی لے آتے ہیں ویسے ہی اچھے لفظ انسان کے اندر اُمید جگا دیتے ہیں۔
مشکل وقت میں دُعا انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ جب دُنیا کے دروازے بند ہونے لگیں تو خدا کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ انسان جب سجدے میں گِرتا ہے تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ بسا اوقات انسان کی عقل راستہ نہیں ڈھونڈ پاتی مگر دُعا اس کے لیے وہ راستے کھول دیتی ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مولانا روم نے کہا تھا:” زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی تمہارے اندر داخل ہوتی ہے”۔ یہی روشنی انسان کو نئے حوصلے دیتی ہے۔
مشکل وقت میں ماضی کے غموں میں ڈوبنے کی بجائے حال پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بعض لوگ اپنی ناکامیوں کو سینے سے لگا لیتے ہیں۔ وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔ یہ سوچ انسان کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ دانشمندی یہ ہے کہ انسان مسئلے پر رونے کی بجائے اس کا حل تلاش کرے۔ اگر راستہ بند ہو جائے تو دوسرا راستہ ڈھونڈنا چاہیے۔ پانی کی طرح بن جانا چاہیے جو چٹان سے ٹکرا کر رُکنے کی بجائے اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔
کتابوں میں بھی مشکل وقت سے نکلنے کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ وکٹر فرینکل نے اپنی کتاب میں لکھا:” انسان سے سب کچھ چھینا جا سکتا ہے مگر ایک چیز نہیں چھینی جا سکتی اور وہ ہے اپنے رویے کا انتخاب”۔ یہی رویہ انسان کو شکست یا کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ ڈیل کارنیگی نے لکھا :”اگر تمہارے پاس ایک لیموں ہے تو اس سے شربت بنانا سیکھو”۔ یہ الفاظ دراصل زندگی کی حقیقت بیان کرتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں انسان ان سے فائدہ اُٹھانا سیکھ سکتا ہے۔
ہمارے شعرا نے بھی مشکل وقت کے فلسفے کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

یہ شعر اُمید کی ایک روشن مثال ہے۔ انسان اگر دل میں یقین پیدا کر لے تو بربادی کے کھنڈرات سے بھی نئی زندگی اُگ سکتی ہے۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا:

دل نہ اُمید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

مشکل وقت میں اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اکثر لوگ ذہنی دباؤ میں اپنے جسم کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نیند کم ہو جاتی ہے، کھانا بے ترتیب ہو جاتا ہے اور انسان اندر سے کمزور ہونے لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مضبوط جسم مشکل حالات سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ صبح کی ہوا میں چہل قدمی کرنا، فطرت کے قریب رہنا اور ہمت بڑھانے والی کتابیں پڑھنا انسان کے ذہن کو سکون دیتی ہیں۔ فطرت انسان کے دُکھوں کی خاموش دوا ہے۔ جیسے سوکھی شاخ پر بہار دوبارہ آ جاتی ہے ویسے ہی انسان کے دل میں اُمید لوٹ سکتی ہے۔
بعض اوقات مشکل وقت انسان کو نئے راستے دِکھا دیتا ہے۔ بہت سے لوگ ناکامی کے بعد کامیاب ہوئے۔ اسٹیو جابز کو اپنی ہی کمپنی سے نکال دیا گیا مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ بعد میں وہی شخص دُنیا کے کامیاب ترین لوگوں میں شامل ہوا۔ انہوں نے کہا تھا:” کبھی کبھی زندگی اینٹ کی طرح آپ کے سر پر ضرب لگاتی ہے لیکن اپنا یقین مت کھونا”۔ یہ جملہ ہر اُس شخص کے لیے روشنی ہے جو حالات سے ٹوٹ رہا ہو۔
زندگی میں مشکل وقت بارش کی طرح آتا ہے۔ اگر انسان صرف بھیگنے کا خوف پال لے تو وہ کبھی قوسِ قزح نہیں دیکھ سکتا۔ آزمائش انسان کو توڑنے نہیں بلکہ مضبوط بنانے آتی ہے۔ سونا آگ میں تپ کر ہی کُندن بنتا ہے۔ اسی طرح انسان مشکلات سے گزر کر نکھرتا ہے۔ اگر انسان ہر دُکھ کو اپنی تباہی سمجھ لے تو وہ جینا چھوڑ دے گا ۔اس کے برعکس اگر وہ اسے سیکھنے کا موقع سمجھے تو وہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
انسان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی سرتاپا سکون کا نام نہیں۔ زندگی کا حُسن ہی اس کے اُتار چڑھاؤ میں ہے۔ دُکھ اور خوشی ایک ہی دریا کے دو کنارے ہیں۔ جو انسان مشکل وقت میں اُمید ،صبر ،محنت اور دُعا کا دامن نہیں چھوڑتا وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو ایک چھوٹا سا چراغ بھی روشنی پھیلا دیتا ہے۔ اسی طرح مضبوط ارادہ پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ مشکل وقت میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ انسان خود پر اور اپنے رب پر یقین قائم رکھے کیونکہ یاس سے معمور دن ہمیشہ نہیں رہتے۔ ہر رات کے بعد نئی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔

محسن خالد محسنؔ

post bar salamurdu

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button