آپ کا سلاماردو غزلیاتشازیہ طارقشعر و شاعری

محبت کے نہ اب ایثار کے ہیں

ایک اردو غزل از شازیہ طارق

محبت کے نہ اب ایثار کے ہیں
یہاں رشتے سبھی بیکار کے ہیں

کسی سے کیا کہیں کہ داغِ الفت
تہِ دامن جو ہیں غم خوارکے ہیں

بنا بولے بنے نا بات کوئی
سبھی جذبے یہاں اظہار کے ہیں

خلوصِ دل سے وہ ملتے نہیں اب
بڑے نخرے مرے دلدار کے ہیں

پسِ پردہ تجھے چاہا ہے ہم نے
ہاں عاشق ہم ترے کردار کے ہیں

سناتے ہیں تمھیں رو رو کے جو ہم
سبھی قصے دلِ بیزار کے ہیں

لگا کے دل سے جن کو جی رہے ہیں
وہ سب دکھ شازیہؔ بیکار کے ہیں

شازیہؔ طارق

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button