آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر عرفان احمد بیگشعر و شاعری
ہمیں ہنسنا سکھادو نا ہمیں ہنسنا نہیں آتا
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو غزل
ہمیں ہنسنا سکھادو نا ہمیں ہنسنا نہیں آتا
خوشی میں کیسے بستے ہیں ہمیں بسنا نہیں آتا
تماری بھی تو آنکھیں تمیں رو نا نہیں آتا
ہمارے ہو نٹ ہیں لیکن ہمیں ہنسنا نہیں آتا
سمندر جذب ریگستان آنکھوں میں ذرا دیکھو
ہمیں سپنا دکھا دو نا ہمیں سپنا نہیں آتا
تپش سی زندگی میں عمر کی دوپہر گہری ہے
ہمیں جینا سکھا دو نا،ہمیں جینا نہیں آتا
کبھی سیلاب میں بہتے کبھی ہیں زلزلے سہتے
ہم ایسے اجڑے بکھرے ہیں ہمیں بسنا نہیں آتا
بلندی سے دھکیلا ہے یہ بستی ہے یہ پستی ہے
ہمیں رکنا سکھا دو نا ہمیں رکنا نہیں آتا
جھکایا اس قدر ہم کو کہ اب ہیں رینگتے کیڑے
ہمیں اٹھنا سکھا دو نا ، ہمیں اٹھنا نہیں آتا
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ








