آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر عرفان احمد بیگشعر و شاعری

ہمیں ہنسنا سکھادو نا ہمیں ہنسنا نہیں آتا

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو غزل

ہمیں ہنسنا سکھادو نا ہمیں ہنسنا نہیں آتا
خوشی میں کیسے بستے ہیں ہمیں بسنا نہیں آتا

تماری بھی تو آنکھیں تمیں رو نا نہیں آتا
ہمارے ہو نٹ ہیں لیکن ہمیں ہنسنا نہیں آتا

سمندر جذب ریگستان آنکھوں میں ذرا دیکھو
ہمیں سپنا دکھا دو نا ہمیں سپنا نہیں آتا

تپش سی زندگی میں عمر کی دوپہر گہری ہے
ہمیں جینا سکھا دو نا،ہمیں جینا نہیں آتا

کبھی سیلاب میں بہتے کبھی ہیں زلزلے سہتے
ہم ایسے اجڑے بکھرے ہیں ہمیں بسنا نہیں آتا

بلندی سے دھکیلا ہے یہ بستی ہے یہ پستی ہے
ہمیں رکنا سکھا دو نا ہمیں رکنا نہیں آتا

جھکایا اس قدر ہم کو کہ اب ہیں رینگتے کیڑے
ہمیں اٹھنا سکھا دو نا ، ہمیں اٹھنا نہیں آتا

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

post bar salamurdu

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

نام۔ ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،،تمغہ ء امتیاز،، ولد حسان احمد بیگ پیدائش۔ 12 دسمبر1954 ء کوئٹہ۔۔ تعلیم۔پی ایچ ڈی اردو،، ایم اے سوشل ورک،۔ایم اے ہسٹری۔ ایم اے ایجو کیشن (ریٹائر پر وفیسر محکمہ تعلیم بلوچستان ہائر ایجوکیشن اینڈ کالجز ) وزیٹنگ پروفیسر بلوچستان یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ بیوٹم یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، فیچررائٹر، ادیب، شاعر، محقق، ماہرتعلیم، مورخ، روز نامہ۔ مشرق 1975 ء تا 1988 ء۔ روز نامہ جنگ 1988 ء تا 2017 ء روز نامہ ایکسپریس 1918 ء تا حال روزنامہ دن لاہور روز نامہ پاکستان۔ پی ٹی وی۔ ریڈیو پاکستان کو ئٹہ۔ لاہور۔ راولپنڈی۔ اسلام آباد۔پرائیویٹ ٹی وی چینلز شائع شدہ کتب۔۔ تعدا د 18۔ 80 فیصد شائع شدہ کتب ایوارڈ یافتہ انعام یافتہ مکان نمبر 9-14/3 اسٹیورٹ روڈ کو ئٹہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button