آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمظفر ڈھاڈری بلوچ
مت کر خوشی کہ ہوگئے اغیار لاپتہ
مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
مت کر خوشی کہ ہوگئے اغیار لاپتہ
ممکن ہے کل کو ہوں ترے معمار لاپتہ
ہم نے چنا تھا جس کو، بڑے اعتماد سے
کیا تھا قصور؟ ہو گیا ’’سرکار‘‘ لاپتہ
احسان مان یہ بھی، اگر ہو گئے رِہا
لاکھوں کی گنتیوں میں سے، دو چار لاپتہ
بالوں میں اس کے چاندی اترنے لگی مگر
لوٹا نہ پھر جو ہو گیا دِشتار، لاپتہ
بد حالیوں کا ایسا چلا سلسلہ کہ اب
خوش حالیوں کے لگتے ہیں آثار، لاپتہ
تارے بجھے بجھے سے ہیں گلشن تباہ شد
یعنی ہوئے ہیں،نکہت و انوار لا پتہ
ادنٰی سا شعر گو تھا، مظفرؔ کا غم نہ کر
اے دل کیے گئے یہاں شہ کار لاپتہ
مظفرؔ ڈھاڈری







