اردو غزلیاتشعر و شاعرینوشی گیلانی

مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے​

ایک غزل از نوشی گیلانی

مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے​
کبوتر کہہ رہے تھے ہم کہانی سن رہے تھے​

میری گڑیا تیرے جگنو ہماری ماؤں کے غم​
ہم اک دوجے سے بچپن کی کہانی سن رہے تھے​

کبھی صحرا کے سینے پر بکھرتا ہے تو کیسے​
سنہرے گیت گاتا ہے یہ پانی سن رہے تھے​

گزرتی عمر کے ہر ایک لمحے کی زبانی​
محبت رائیگانی رائیگانی سن رہے تھے​

مزاج یار سے اتنی شناسائی غضب تھی​
ہم اس کی گفتگو میں بے دھیانی سن رہے تھے​

وفا کے شہر میں اک شام تھی خاموش بیٹھی​
ہم اس میں بھی کمال خوش بیانی سن رہے تھے​

دعائے آخری شب آسماں کو چھو رہی تھی​
نوید روشنی اس کی زبانی سن رہے تھے​

ہتھیلی پر رکھے پھولوں پہ جو آنسو گرے تھے​
انہی سے کوئی اذن حکمرانی سن رہے تھے​

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button