دلِ بے خبر تجھے کیا خبر
سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
دلِ بے خبر تجھے کیا خبر ، مری مان لے ذرا صبر کر
نہ برس ابھی مری چشمِ تر مری مان لے ذرا صبر کر
تو نے بے پنا سہی مشکلیں ، حقِ بندگی بھی ادا کیا
ذرا ضبط کر یوں نہ آئیں بھر مری مان لے ذرا صبر کر
مجھے پیاس ہے تری اس قدر ، مری تشنگی کا خیال کر
مرے پاس رہ مجھے تنگ نہ کر مری مان لے ذرا صبر کر
میں بھٹک گیا ہو سنبھال لے ، مرا کون ہے ترے بن یہاں
تو ہی میرا محسن و چارہ گر مری مان لے ذرا صبر کر
مرا دل جلے تری یاد میں مجھے بن ترے نہ سکوں ملے
مری چشمِ تر تری منتظر مری مان لے ذرا صبر کر
کسی شام میرے نصیب کا کوئی بجھتا تارہ چمک اٹھے
تو مرے قریب ہو تا سحر مری مان لے ذرا صبر کر
مری زندگی کے حسین دن سبھی تلخیوں میں ہی کٹ گئے
مرے مہرباں تری اک نظر مری مان لے ذرا صبر کر
ہو فراقِ یار کا مسئلہ یا ہو روزگار کا مسئلہ
یہ کریں نہ تجھ کو بھی دربدر مری مان لے ذرا صبر کر
سردار حمادؔ منیر








