آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط

از پروفیسر اکرم ثاقب

مشرق وسطیٰ کی سرزمین دہائیوں سے بارود کی بو اور معصوموں کے لہو سے نم ہے، لیکن حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس خطے کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مفقود نظر آتا ہے۔ عالمی سیاست کے طالب علم جب اس پیچیدہ صورتحال کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس سارے فساد کی اصل جڑ اور محرک اسرائیل ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ آنکھ مچھولی دراصل ایک ایسی جنگ ہے جو اسرائیل کے ایجنڈے کو تحفظ دینے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہو پا رہے ہیں، کیونکہ اس جنگ کے خاتمے کی کنجی اس ریاست کے پاس ہے جس کی بقا ہی جنگ و جدل اور افراتفری میں پوشیدہ ہے۔ اسرائیل کا تاریخی پس منظر گواہ ہے کہ اس ریاست نے کبھی امن کو ایک آپشن کے طور پر قبول نہیں کیا، بلکہ اس کی پوری تاریخ جنگوں، قبضوں اور انسانیت سوز مظالم کا ایک تسلسل ہے۔
اسرائیل نے 1948 میں اپنے ناجائز قیام کے روز اول سے ہی مشرق وسطیٰ اور بالعموم عالم اسلام کے خلاف ایک ایسا من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد اپنے توسیعی عزائم کو مذہبی لبادہ پہنانا ہے۔ صیہونی نظریہ یہ ہے کہ انہیں مذہبی طور پر ایک خاص علاقے کا حاکم بنایا گیا ہے، حالانکہ وہ علاقے صدیوں سے دوسروں کے قبضے اور ملکیت میں ہیں۔ ان علاقوں کو "واپس لینے” کے نام پر اسرائیل نے جس خون خرابے کا بازار گرم کیا، اس نے انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔ 1948 کی پہلی عرب اسرائیل جنگ، جسے فلسطینی ‘النکبہ’ یعنی عظیم تباہی کہتے ہیں، سے لے کر آج تک اسرائیل نے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کی خود مختاری کو پامال کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ 1956 میں مصر پر حملہ ہو یا 1967 کی چھ روزہ جنگ، جس میں اسرائیل نے دھوکے سے ہمسایہ ممالک کی زمینیں ہتھیا لیں، ہر موقع پر اس نے عالمی قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھا۔ 1982 میں لبنان پر چڑھائی اور وہاں صابرہ و شطیلا کے کیمپوں میں فلسطینیوں کی بدترین نسل کشی وہ بھیانک جرائم ہیں جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔
اسرائیل کا جنگی جنون صرف زمینی قبضے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو مسلمانوں اور پوری دنیا کی بربادی پر استوار ہے۔ صیہونی دانشوروں کا یہ ماننا ہے کہ اسرائیل کی بالادستی اسی صورت قائم رہ سکتی ہے جب اس کے گرد و نواح کی تمام مسلم ریاستیں سیاسی، معاشی اور دفاعی طور پر مکمل طور پر مفلوج رہیں۔ اسی نظریے کے تحت اسرائیل نے "عظیم تر اسرائیل” کے خواب کی تکمیل کے لیے دنیا بھر کی سپر پاورز کو اپنا آلہ کار بنایا ہوا ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کو اگر دیکھا جائے تو وہ مکمل طور پر اسرائیلی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا علمبردار بننے والا امریکہ، اسرائیل کے کہنے پر عراق جیسی مضبوط عرب ریاست کو ملیامیٹ کر دیتا ہے، لیبیا اور شام کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیتا ہے اور ایران کے خلاف اقتصادی و عسکری محاذ آرائی کو ہوا دیتا ہے۔ ان تمام کارروائیوں کا واحد مقصد اسرائیل کے دشمنوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ خطے میں اس کی چودھراہٹ کو کوئی چیلنج نہ کر سکے۔ عراق پر حملے کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد بے گناہ انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، اور اس قتلِ عام کا سہرہ براہ راست اس صیہونی لابی کے سر ہے جس نے وائٹ ہاؤس کو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے جھوٹے پروپیگنڈے پر آمادہ کیا۔
اسرائیلی جارحیت کی لسٹ طویل اور لرزہ خیز ہے۔ 1976 میں یوگنڈا کے ایئرپورٹ پر حملہ ہو، 1981 میں عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کی تباہی ہو، یا 1985 میں تیونس میں پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر پر بمباری، اسرائیل نے کبھی کسی ملک کی سرحدوں کا احترام نہیں کیا۔ 2006 میں لبنان کے انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی اور حالیہ برسوں میں غزہ کی پے در پے ناکہ بندی اور وہاں کی جانے والی نسل کشی اس صیہونی نظریے کی عملی شکل ہے جو کہتا ہے کہ ان کے علاوہ باقی تمام انسان دوسرے درجے کی مخلوق ہیں۔ 2023 سے جاری غزہ کی حالیہ جنگ میں جس طرح بچوں، عورتوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس نے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب تک چالیس ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، لیکن عالمی ضمیر اور انسانی حقوق کے ادارے اسرائیل کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ اسے امریکہ کی بھرپور مالی، عسکری اور سفارتی پشت پناہی حاصل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملے اس صیہونی نظریے کا تسلسل ہیں جس کا مقصد پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنی بالادستی قائم کرنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں لبنان کی خود مختاری پر جو شب خون مارا گیا، اس نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل کسی بھی بین الاقوامی سرحد یا اخلاقی ضابطے کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان بہیمانہ حملوں کا آغاز مواصلاتی آلات (پیجرز اور واکی ٹاکی) کے ذریعے کیے گئے دہشت گردانہ دھماکوں سے ہوا، جس میں ہزاروں معصوم شہری اور طبی عملہ نشانہ بنے۔ اس کے بعد بیروت کے گنجان آباد علاقوں اور جنوبی لبنان پر ایسی وحشیانہ بمباری کی گئی جس نے 2006 کی جنگ کی یاد تازہ کر دی۔
ان حملوں میں فاسفورس بموں کا استعمال اور سویلین آبادی کو نشانہ بنانا اسرائیل کا پرانا حربہ ہے تاکہ لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیلا کر انہیں مزاحمت سے دور کیا جا سکے۔ اسرائیل نے نہ صرف حزب اللہ کے قائدین کو ٹارگٹ کیا بلکہ ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گزین کیمپوں کو بھی نہیں بخشا، جس کے نتیجے میں لاکھوں لبنانی اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ امریکہ کی طرف سے ان حملوں کو "دفاعی کارروائی” قرار دینا اس عالمی منافقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جہاں قاتل کو ہتھیار بھی فراہم کیے جا رہے ہیں اور اسے ہر جرم کی کھلی چھٹی بھی دے دی گئی ہے۔ لبنان پر یہ حالیہ جارحیت دراصل اس بڑے صیہونی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ لبنان کے جنوبی حصے پر قابض ہو کر اپنے "عظیم تر اسرائیل” کے نقشے میں رنگ بھرنا چاہتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل کا اصل مقصد صرف فلسطینیوں کی نسل کشی نہیں بلکہ وہ پوری دنیا کو ایک ایسی بڑی جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے جس میں عالمی طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں اور اسرائیل اس افراتفری کا فائدہ اٹھا کر اپنے "نیل سے فرات” تک کے توسیعی خواب کو حقیقت کا رنگ دے سکے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا مستقل جنگ کی لپیٹ میں رہے کیونکہ امن کی صورت میں اس کے پاس اپنی جارحیت کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کے خلاف اس نے جو زہریلا پروپیگنڈہ پھیلا رکھا ہے، اس کا مقصد عالم اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر ان کے وسائل پر قبضہ کرنا اور ان کی اخلاقی و مذہبی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
آج مشرق وسطیٰ میں جو آگ لگی ہے، اس کا ایندھن وہ معصوم لوگ بن رہے ہیں جن کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنی زمینوں پر آزادی سے رہنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے ہر جرم پر ویٹو کا حق استعمال کرنا اور اسے اربوں ڈالر کے مہلک ہتھیار فراہم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ صرف اسرائیل کی نہیں بلکہ ایک عالمی گٹھ جوڑ کی جنگ ہے جس کا مقصد انسانیت کی تذلیل اور ایک خاص نظریے کا تسلط قائم کرنا ہے۔ جب تک عالمی برادری اسرائیل کے اس جنگی جنون اور صیہونی نظریے کو پہچان کر اسے لگام نہیں ڈالتی، تب تک نہ تو امریکہ اور ایران کے درمیان امن ہو سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کسی بڑی تباہی سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اسرائیل کی تاریخ جنگوں کا دوسرا نام ہے، اور جب تک اس کا وجود اس ظالمانہ شکل میں قائم ہے، انسانیت کے لیے امن ایک سراب ہی رہے گا۔ یہ کالم ایک پکار ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو سچائی کو دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں کہ وہ پہچانیں کہ اصل فساد کہاں سے پھوٹ رہا ہے اور کن کے ہاتھوں میں اس آگ کی ڈور ہے جو پوری دنیا کو جلا کر راکھ کر دینا چاہتی ہے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button