- Advertisement -

میگها رت کی رات، خموشی

ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل

میگها رت کی رات، خموشی

میں، دلبر، جذبات، خموشی

بن سجنا او چرخے والی

شام سویرے کات خموشی

غم کا آہو چیخ رہا ہو

ایسے میں سوغات خموشی

جتنے بھی بہتان لگا لے

مجھ برہن کی ذات خموشی

چپ رہنا ولیوں کا شیوہ

سب سے اچھی بات خموشی

میں ایسا گلشن ہوں جس میں

ہر غنچہ ہر پات خموشی

ڈاکٹر اسد نقوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل