رمضان ٹرانسمیشن یا ریٹنگ کا کھیل؟
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
رمضان کا مہینہ ہمارے دلوں میں روشنی اور سکون لے کر آتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنے اعمال پر نظر ڈالے، صبر و تقویٰ اپنائے اور اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔ مگر حالیہ سالوں میں رمضان ٹرانسمیشنز نے اس مقدس مہینے کا ایک نیا چہرہ پیش کرنا شروع کر دیا ہے، جو زیادہ تر ریٹنگ اور تفریح کے گرد گھومتا ہے۔
ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر رمضان کے دوران خصوصی پروگرام آتے ہیں، جن میں اکثر گیم شوز، ڈرامائی مناظر اور انعامی مقابلے شامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی غریب خاندان کو کیمرے
کے سامنے امداد دیتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، یا بیمار بچے کی کہانی بریکنگ نیوز کے انداز میں پیش کی جاتی ہے۔ نیکی اور خیرات کو اس انداز میں پیش کرنا اس کی روح کو متاثر کرتا ہے اور مستحق افراد کی عزت نفس کو بھی مجروح کر سکتا ہے۔
اہل علم اور علما کو بھی پروگراموں میں شامل کیا جاتا ہے، مگر اکثر سنجیدہ علمی گفتگو کے بجائے ہلکے اور تفریحی موضوعات پر وقت صرف کیا جاتا ہے۔ نوجوان نسل جو اس دوران اسکرین پر دیکھتی ہے، وہ یہی انداز دین کا نمونہ سمجھنے لگتی ہے۔ اس طرح رمضان کی اصل روح، جو سادگی، عبادت اور اخلاقی اصلاح پر مبنی ہے، دب کر رہ جاتی ہے۔
خواتین کے لیے کچن آئٹمز اور کوکنگ شو، نوجوانوں کے لیے مقابلے اور تفریحی سرگرمیاں اچھی ہیں، مگر جب یہ سب مقدس مہینے کے پیغام پر چھا جائیں، تو اصل مقصد کہیں کھو سا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل کلپس اور ڈرامائی مناظر کے ذریعے ریٹنگ بڑھانا دین کی تعلیمات کی نمائش بن جاتی ہے۔
لیکن ہر رمضان ٹرانسمیشن منفی نہیں ہے۔ کئی پروگرام قرآن فہمی، سیرت النبی ﷺ، اور معاشرتی اصلاح پر مبنی ہوتے ہیں۔ وہ حقیقی مسائل پر بات کرتے ہیں اور لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہی طریقہ کار ہمیں دکھاتا ہے کہ میڈیا رمضان کی روح کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
حل کی تجاویز:
1. پروگراموں میں قرآن اور سیرت پر زیادہ توجہ دی جائے۔
2. مستحق افراد کی عزت کا خیال رکھ کر خیرات پیش کی جائے۔
3. غیر ضروری ہنسی مذاق اور اشتہارات کم کیے جائیں۔
4. نوجوانوں اور خواتین کے لیے مواد کو تعلیم اور اصلاح سے جوڑا جائے۔
5. چینلز ایک ضابطہ اخلاق وضع کریں تاکہ رمضان کی ٹرانسمیشن واقعی مہینے کی اصل روح کو اجاگر کرے۔
رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ نیتیں خالص ہوں اور عمل کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو۔ اگر ہماری اسکرینیں بھی یہی سبق سکھائیں، تو رمضان کی ٹرانسمیشن نہ صرف دیکھنے میں خوشگوار ہوں گی بلکہ دلوں میں روشنی اور شعور بھی بکھیر سکیں گی۔
یوسف صدیقی








