آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعاصمہ فراز

تجھ کو لگتا ہے عارضی دکھ ہے

عاصمہ فراز کی اردو غزل

تجھ کو لگتا ہے عارضی دکھ ہے
اس کے چہرے پہ داٸمی دکھ ہے

تیرگی سے تو اس کو رغبت ہے
اس کی آنکھوں کی روشنی دکھ ہے

بے ٹھکانہ رہا ہے برسوں سے
اک مسافر کی بے گھری دکھ ہے

اک سمندر ہے جو کہ چاہت کا
اس کے جذبوں کی تشنگی دکھ ہے

کوٸی سکھ بھی ملا نہ جیون سے
واسطے اس کے زندگی دکھ ہے

جاں کنی بھی عذاب ہے جس پر
اس سے کہہ دو یہ آخری دکھ ہے

مار کر چھاٶں میں نہیں ڈالا
ہاٸے اپنوں کی بے حسی دکھ ہے

عاصمہ فراز

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button