اردو غزلیاتجمیل الدین عالیشعر و شاعری

بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے

جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل

بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے
یا رب مرا جنون محبت جواں رہے

یہ بھی سمجھ سکی ہے نہ اب تک نگاہ شوق
تم نے کہاں فریب دیا اور کہاں رہے

دنیا میں چاک دل کو نہیں پوچھتا کوئی
کیا جانے کتنے اہل جنوں بے نشاں رہے

اس انجمن میں ہم بھی پہنچ تو گئے مگر
جب تک رہے مزاج‌ نظر پر گراں رہے

کیا کیا جفائیں کی ہیں ہر اک آرزو کے ساتھ
اور اس طرح کہ ان پہ وفا کا گماں رہے

اب یوں کرم نہ کر کہ بہ ایں وصف حسن و ناز
شاید تجھے بھی عشق کا سودا گراں رہے

لینے دے اپنا نام بھی مجھ کو کہ میرے بعد
تو بھی مری غزل کے سبب جاوداں رہے

جمیل الدین عالی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button