- Advertisement -

کہیں کچھ کم نہیں ہے ، تم نہیں ہو

افتخار شاہد کی ایک غزل

کہیں کچھ کم نہیں ہے ، تم نہیں ہو
اگرچہ سب حسیں ہے ، تم نہیں ہو

حصارِ رنگ و بُو ہے چار جانب
کوئی تو بالیقیں ہے ، تم نہیں ہو

میں ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھا ہوا ہوں
مگر جلتی زمین ہے ، تم نہیں ہو

دئیے بھی جل رہے ہیں طاقچوں میں
یہ سورج بھی وہیں ہے ، تم نہیں ہو

گماں ہے بے یقینی اور یقیں ہے
کہیں کچھ تو کہیں ہے ،تم نہیں ہو

یہ دل کا رقص یونہی تو نہیں ہے
کوئی دل کے قریں ہے ، تم نہیں ہو

مجھے ایسا گماں ہوتا ہے شاہد
نہیں ایسا نہیں ہے ، تم نہیں ہو

افتخار شاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
افتخار شاہد کی ایک غزل