Achilles’ Heel
جدی پشتی فوجی تھا
فوجی تھا
من موجی تھا
اس کا شجرہ برگد تھا
جس کی شاخیں
برصغیر سے ہوتی ہوتی
یورپ کے آکاش پہ ہر سو پھیلی تھیں
اور شمال میں اس کے پتے
منگولوں کی صلبوں سے ٹکراتے تھے
اس کا جثہ پتھر تھا
اس کی یمنی چھاتی میں خوں رنگ عقیق دھڑکتا تھا
جس سے شریانوں کی شاخیں پھوٹتی تھیں
جن میں ہر دھڑکن کی لہریں ٹوٹتی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدی پشتی فوجی تھا
اس کے پرکھوں، پڑ پرکھوں نے
تیر تفنگی اور تلواری
میزائل اور جوہر واری
ساری جنگیں لڑی ہوئی تھیں
سارے اس کی چاکری پر اتراتے تھے
امریکہ سے سیل* کے بچے پانی بھرنے آتے تھے
………………..
فوجی تھا من موجی تھا
لام لگا کر اپنے گھر کو لوٹ رہا تھا
راہ میں ننھی بچی تھی
کچی گری سی کچی تھی
"میری گڑیا ٹوٹ گئی”
سسکی سسکی ہوتی تھی
لرز لرز کر روتی تھی
"میری گڑیا ٹوٹ گئی ہے”
بس یہ سننا تھا اور پتھر چٹخ گیا
گھبرائے گھٹنوں پہ گر کے
بازو چھوڑ کے
دھڑکن توڑ کے
اتنا رویا
گھگی بندھ گئی
"میری گڑیا ٹوٹ گئی ہے”
اس کے دل پر بل پڑتے تھے
اس کی گیلی پلکوں سے موتی جھڑتے تھے
اس کی مرجانی آنکھوں کے ڈھیلے مڑ گئے
برگد کی چھتنار سرائے کے مہمان پرندے اڑ گئے
خوف اور حیرت کی ننھی باہوں میں سمٹی
بچی
ان ہونی آنکھوں سے
اس کو ہوتا دیکھ رہی تھی
پتھر روتا دیکھ رہی تھی
*SEAL
وحید احمد
پندرہ ستمبر 2025







