اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

غم بنا دے نہ تماشا ہم کو

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

غم بنا دے نہ تماشا ہم کو
ہنسنا آیا ہے نہ رونا ہم کو

ہم ابھی تک ہیں وہیں راہ نشیں
جس جگہ آپ نے چھوڑا ہم کو

اک صدا تک تھی عنایت ساری
پھر کسی نے بھی نہ پوچھا ہم کو

آج دیکھا ہے نیا رنگ ان کا
دو گھڑی چھوڑ دو تنہا ہم کو

زندگی لے گئی طوفانوں میں
دے کے تنکے کا سہارا ہم کو

تیری محفل کے چراغوں کے تلے
کچھ نشاں ملتا ہے اپنا ہم کو

ہو گئے چپ ہمیں پاگل کہہ کر
جب کسی نے بھی نہ سمجھا ہم کو

بات ہو، شعر ہو، افسانہ ہو
ہے بہت کچھ ابھی کہنا ہم کو

کوئی روزن ہو کہ دروازہ ہو
چاہئے ایک شرارا ہم کو

فصل گل آئی مگر کیا آئی
رنگ بھولا نہ خزاں کا ہم کو

لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ
ایک سوکھا ہوا پتہ ہم کو

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button