- Advertisement -

بازار ختم ہو چکا , گاہک نہیں رہا

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

بازار ختم ہو چکا , گاہک نہیں رہا
بوڑھا صدائیں دیتے مگر تھک نہیں رہا

سر سبز پیڑ آندھیاں جڑ سے اکھاڑ دیں
رستہ کسی پرندے کا جو تک نہیں رہا

کچھ تو فقیر سوچتا دستک سے پیشتر
کھانا کئی دنوں سے یہاں پک نہیں رہا

ہر سمت فاصلوں کی عجب گرد اڑ رہی
برتن سفید کپڑے سے کیوں ڈھک نہیں رہا

ویران اک سڑک پہ ہوں بیٹھا میں شام سے
وحشت میں یاد راستہ گھر تک نہیں رہا

میری جبیں کو چوم کے سینے لگائے گا
جس دن مری وفا پہ اسے شک نہیں رہا

ارشاد اس مکان میں رہتا تھا جو مکیں
مدت ہوئی , اٹھائیے دستک, نہیں رہا

ارشاد نیازی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
سعید خان کی اردو غزل