آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمیثم علی آغا

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

میثم علی آغا کی ایک اردو غزل

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے
تہذیبِ زندگی بھی ہے تو مت سکھا مجھے

تُو بھی کبھی ملے گا تو پہچانے گا نہیں
اتنا نگل چکا ہے یہ تیرا خلا مجھے

میں تھک کے رکھنے آیا تھا عمرِ گریز پا
اے بچھڑے دوست تُو یہ کہاں آ ملا مجھے

میں اپنے آپ کو بھی نہیں عمر بھر ملا
جانے سنبھال کے وہ کہاں رکھ گیا مجھے

اے پھول جیسے شخص ترے خال و خد کی خیر
تُو خوش ہے مجھ کو بھول کے اچھا لگا مجھے

صدیوں سے اُجڑا میں کوئی بے نام سا کھنڈر
پھر بھی یہ حسرتیں کہ کوئی دیکھتا مجھے

میں شاخ سے گرا ہوا پتا نہیں ہوں یار
کیوں ٹھوکروں پہ رکھتی ہے اندھی ہوا مجھے

میثم میں اُس کے بعد کبھی ہنس نہیں سکا
جب سے مجھے کسی نے کہا بھول جا مجھے

میثم علی آغا

post bar salamurdu

میثم علی آغا

نام : میثم علی آغا - بنیادی طور پر سیالکوٹ کی تحصیل پسرور سے تعلق ہے مگر پچھلے دس سال سے اٹلی میں مستقل مقیم ہوں - کتابیں پکھی واس (پنجابی مجموعہ) میں تجھ کو یاد آؤں گا (اردو شعری مجموعہ) ابھی موسم سسکتے ہیں (اردو شعری مجموعہ) ارتجال (اردو شعری مجموعہ) در بدری: پاکستان سے اٹلی تک پیدل سفر کی کہانی (زیرِ طباعت) - اٹالین زبان میں نظموں کا مجموعہ چھپ چکا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button