میں نے تمہیں
پہلی بار یاد کیا
تو موسم میں
ہلکی سی سرخی شامل ہو گئی تھی
شاید کہیں
ایک گلاب کھلا تھا
جسے کسی نے دیکھا نہیں تھا
تمہاری آواز
اگرچہ موسیقی نہیں تھی
لیکن یوں لگتا تھا
جیسے کوئی کھڑکی
آہستہ سے کھلی ہو
اور کمرے میں
تازہ ہوا داخل ہو گئی ہو
میں نے سوچا تھا
محبت شاید
ایک چھوٹی سی چیز ہوتی ہے
جیسے میز پر رکھا ہوا کپ
کتاب میں رکھا ہوا پھول
یا مور کا پر
پھر ایک دن
میں نے جانا
محبت سمندر کی طرح ہے
جو بظاہر خاموش رہتا ہے
اور اندر ہی اندر
بہت کچھ اپنے ساتھ لے جاتا ہے
لوگ کہتے ہیں
سمندر کبھی بھی
خشک ہو سکتے ہیں
اور پہاڑ
دھوپ میں پگھل سکتے ہیں
میں نے ان کی بات مان لی
مگر محبت کے بارے میں
کچھ نہیں مانا
میں صرف یہ جانتا ہوں
جب میں چلا جاؤں گا
تو کمرے میں رکھی تمہاری یادیں
اپنی جگہ پر رہیں گی
مگر ان کے معنی بدل جائیں گے
میں کچھ فاصلے طے کروں گا
کچھ شہر دیکھوں گا
کچھ سڑکیں
بغیر کسی وجہ کے پار کروں گا
اور ایک دن
اسی طرح
جیسے کوئی شخص
گھر کا دروازہ کھول کر
اندر آ جاتا ہے
واپس آ جاؤں گا
شہباز خواجہ








