آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریشہباز خواجہ

واپسی

شہباز خواجہ کی ایک اردو نظم

میں نے تمہیں
پہلی بار یاد کیا
تو موسم میں
ہلکی سی سرخی شامل ہو گئی تھی

شاید کہیں
ایک گلاب کھلا تھا
جسے کسی نے دیکھا نہیں تھا

تمہاری آواز
اگرچہ موسیقی نہیں تھی
لیکن یوں لگتا تھا
جیسے کوئی کھڑکی
آہستہ سے کھلی ہو
اور کمرے میں
تازہ ہوا داخل ہو گئی ہو

میں نے سوچا تھا
محبت شاید
ایک چھوٹی سی چیز ہوتی ہے
جیسے میز پر رکھا ہوا کپ
کتاب میں رکھا ہوا پھول
یا مور کا پر

پھر ایک دن
میں نے جانا
محبت سمندر کی طرح ہے
جو بظاہر خاموش رہتا ہے
اور اندر ہی اندر
بہت کچھ اپنے ساتھ لے جاتا ہے

لوگ کہتے ہیں
سمندر کبھی بھی
خشک ہو سکتے ہیں
اور پہاڑ
دھوپ میں پگھل سکتے ہیں

میں نے ان کی بات مان لی
مگر محبت کے بارے میں
کچھ نہیں مانا

میں صرف یہ جانتا ہوں
جب میں چلا جاؤں گا
تو کمرے میں رکھی تمہاری یادیں
اپنی جگہ پر رہیں گی
مگر ان کے معنی بدل جائیں گے

میں کچھ فاصلے طے کروں گا
کچھ شہر دیکھوں گا
کچھ سڑکیں
بغیر کسی وجہ کے پار کروں گا

اور ایک دن
اسی طرح
جیسے کوئی شخص
گھر کا دروازہ کھول کر
اندر آ جاتا ہے
واپس آ جاؤں گا

شہباز خواجہ

post bar salamurdu

شہباز خواجہ

قلمی نام: شہباز خواجہ اصل نام: خواجہ محمد شہبازراولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور ایف۔اے کے امتحانات راولپنڈی بورڈ سے، جبکہ بی۔اے، ایل۔ایل۔بی اور ایم۔اے اُردو کے امتحانات پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیے۔ 2004 میں راولپنڈی سے وکالت کا آغاز کیا۔ 2006 سے لندن (برطانیہ) میں مقیم ہیں۔ برطانیہ میں وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ 2023 میں Lincoln’s Inn جیسے تاریخی ادارے سے بار ایٹ لاء (بیرسٹری) مکمل کیا۔شاعری کا آغاز 1994 میں کیا اور اسی دوران مختلف معتبر ادبی جرائد میں کلام شائع ہوا۔ 1997 میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے ادبی پروگرام میں بطور شاعر شرکت کی۔ فنون، چہار سو، ادب لطیف، نیرنگِ خیال، سمبل، کولاژ، ادبیات اور بیاض سمیت کئی رسائل میں شاعری چھپتی رہی۔2005 میں پہلا شعری مجموعہ “آنکھ خواب بُنتی ہے” شائع ہوا جسے ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ۔ ملک گیر ادبی تنظیم “سُخن ور” کے بانی اراکین میں شامل رہے اور پہلے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ لندن میں ادبی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔ لندن منتقل ہونے کے بعد نامور ادیب ، شاعر اور نقاد جناب ساقی فاروقی سے قریبی تعلق قائم ہوا جو 2018 میں اُن کے انتقال تک برقرار رہا۔شہباز خواجہ کا دوسرا شعری مجموعہ “گریز” 2021 میں شائع ہوا، جسے سنجیدہ ادبی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ذیل میں اُن کا منتخب کلام پیش ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button