وہ اپنی کلاس لے کر باہر آرہی تھی۔اتنے میں اسے پیچھے سے کسی نے آواز دی۔ سارہ مظہر۔ وہ آواز سن کر رک گئ۔آپ کون۔؟میں آپ کو نہی جانتی۔معلوم ہے مجھے ۔پر میں تمہیں جانتی ھوں۔اچھا وہ کیسے؟
تم مظہر اللہ کی بیٹی ھو۔ جی پر آپ کو کیسے معلوم۔جان سکتی ھوں؟
بات ا تھوڑی لمبی ھے پر تمہیں جان کر خوشی ھو گی تم اک نہایت مخلص و ہمدرد باپ کی بیٹی ھو
مجھے معلوم ہے میرے ماں باپ کیسے ہیں۔پر آپ اپنا تعارف کروانا پسند۔کریں گی؟
لازما کیوں نہی میرا نام اقراء نواب ھے۔اور میں س اپنی پڑھائ مکمل کرکے یہاں سے گئ ھوں۔اوں اچھا تو میرا کیا تعلق آپ سے؟
تم سوال بہت کرتی ھو۔چلو کہی بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔
پر بات کرنا ضروری ھے ؟ھاں ھے ہمم اوکے آئیں۔
وہ دونوں کنٹین کا رخ کر لیتی ہیں۔
وہاں اک جگہ جہاں بلکل خاموشی ھوتی ہے وہ اس جگہ کا انتحاب کرتی ہیں۔
اب بتاۓ آخر ایسی کیا بات ھے۔جو آپ مجھ سے کرنا چاہ رہی ہیں۔
بات۔دراصل یہ ھے۔کہ آج سے کچھ برس پہلے تمہارے بابا میرے بابا کے لیے کام کرتے تھے۔میرے بابا بزنس مین تھے۔اور تمہارے بابا میرے بابا کے پرسنل کیشئڑ تھے۔
میں تب دس سال کی تھی جب میرے بابا کو اٹیک ھوا تھا آفس میں تمہارے بابا سب کچھ چھوڑ کر میرے بابا کو ہاسپٹل لے گے۔وہاں دن رات ان کے پاس۔رھے۔کیونکہ میرے بابا کا کوئ بھائ یا ایسا رشتے دار نہی تھا جو انکی دیکھ بھال کرتا۔اور ماما بھی نہی آ سکتی تھی ان دنوں میرا چھوٹا بھائ ابھی پیدا ہی ھوا تھا تقریبا ہفتے کا اور ماما اس حالت میں نہ تھی کہ بابا کے ساتھ ہاسپٹل رہتی۔تمہارے بابا نے دن رات میرے بابا کا دھیان رکھا۔اور اپنے گھر باہر کی پرواہ بھی نہ کی۔مگر میرے بابا کو یاد تھا ۔کہ انہوں نے کسی چیز کی پرواہ نہ کی۔ اور تم لوگ گاؤں میں رہتے تھے۔
جب بابا گھر آگۓ تو تب معلوم ہوا تمہارے بابا نے دن رات خدمت کر کے میرے بابا کا دھیاں رکھا ھے۔ بابا بڑے خوش ھوۓ ۔وقت گزرتا گیا تمہارے بابا گاؤں واپس چلے گۓمیرے بابا کو باہر جانا پر گیا اور میرے بابا وفات پاگۓ تھے۔
مگر میرے بابا جاتی دفعہ اک خط لکھ کر گۓ تھے جس میں یہ سارا واقعہ تمہارے بابا کی تصویر اور کچھ امانت کا ذکر لکھا تھا۔
امانت کیسی امانت؟
اس دن جب تمہارے بابا تمیہں کالج چھوڑنے آۓ تھے تو میں بھی باھر کھڑی تھی میں اپنا
سر ٹیفکیٹ لینی آئ تھی۔اور تمہیں دیکھا تھا
اس دن میں معذرت میں چوری سے تمہارے بابا کی تصویر لے لی آخر میرے بابا کا وعدہ تھا کہ ہر صورت یہ امانت مظہر اللہ تک پہنچا دینا ۔بیشک تمہیں ان کی تلاش کیوں نہ کرنی پڑے۔گھر جاکر میں وہ خط اور تصویر دیکھی جو بلکل تمہارے بابا کی تھی۔
پھر میں دوسرے دن ہی کالج آئ اور تمہارا سارا پتہ وغیرہ معلوم کیا۔
ویسے آجکل تمہارے بابا کیا کرتے ہیں۔؟
وہ اک کلرک ہیں۔اور گھر کا خرچہ وغیرہ؟
پر آپ جان کر کیا کریں گی؟
تم بتاؤ تو سہی ۔اللہ کا شکر ھے وہ جس حال میں رکھے۔
تمہارے بابا کمزور کیوں لگ رہے تھے؟
انکو جگر کی بیماری ھے اور بس علاج ہو رہا ھے۔
یعنی میں کہہ سکتی ھوں تھوڑا مشکل وقت ھے؟
وہ نظریں جھکا گئ۔اور آہستہ سے بولئ جی۔
یعنی اللہ اتعالی نے ٹھیک وقت مجھے بھیجا۔
مطلب؟
مجھے اپنے گھر لے چلوں گی پلیز
پر آپ کے گھر والے ؟ دیکھو میرے بابا کا قرض ھے جو مجھے ھر قیمت ادا کرنا ھے انکی بخشش کا سوال ھے۔
اچھا آج یا کل؟ نہی آج ابھی اسی وقت
چلیں پھر میں گھر ہی جا رہی ھوں۔آپ پر اعتبار کر رہی ھوں پلیز ہمارے ساتھ کچھ غلط مت کیجئۓ گا ہم پہلے ہی سے بہت پریشان ہیں۔
فکر مت کرو میں سجھ سکتی ھوں
تم بھروسہ کر سکتی ھو
وہ اس کے ساتھ چل دی ا اقراء کے پاس کار تھی اسلیے وہ اسکو راستے کا بتاتی رہی
گاڑی ہمارے گھر کے سامنے نہی جاۓ گی گلیاں تنگ ہیں۔کوی بات نہی ۔ہم پیدل چلے جاتے ہیں۔ان تاریک گلیوں میں سارا اسی کشمکش میں مبتلا رہی کہ آخر ایسی کونسی امانت ہے بابا کی انکے پاس ان بیچاڑوں کے پاس تو کچھ ہے ہی نہی۔ ٹیویشن پڑھا پڑھا کر وہ اتنی تعلیم لے رہی ھے۔
اور بابا تو مشکل سے ہی کما رہے ہیں۔
اسی سوالوں کی کشمکش میں گھر آگیا۔اک پرانا سا گھر جو خالات کی بہترین عکاسی کر رہا تھا۔
اندر داخل ھوتے ہی اس نے اماں سے کہا کہ پانی لائیں انکے لیے۔
وہ اک کمرے میں بیٹھ گئ پرانا گھر پرانا فرنیچر غربت کو بیاں کر رہا تھا۔
خیر اسے بابا بھی آگۓ۔ وہ بیمار تھے اسلیے آج گھر پر ہی تھے۔
السلام علیکم ۔
وعلیکم السلام بیٹا آپ کون۔؟
میں کبیر نواب احمد کی بیٹی ھوں۔ جو نواب فیکٹری کے مالک تھے۔ شاید آپ کو یاد ھو
ہاں ہاں جناب کبیر صاحب ارے انکو کون بھلا سکتا اک عرصہ میں انکے لیے کام کیا۔ وہ میرے افسر تھے۔اور میں سارا دن أن کے ساتھ رہتا تھا۔
کیسے ہیں وہ؟
انکی کچھ عرصہ پہلے وفات ھو گئ تھی۔بیمار رہتے تھے۔اچانک ہارٹ اٹیک ھوا وقت نے موقعہ ہی نہ دیا ۔
اوں اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔
دکھ ہوا جان کر وہ تو باہر چلے گۓ تھے۔
جی وہی وفات ھوئ تھی۔
اچھا بیٹے کوئ نہی اللہ کی رضا میں راضی رہنا ھی بہتر ھے۔
جی بلکل۔
بابا یہ کسی امانت کی بات کر رہی تھی۔
امانت؟ کیسی امانت؟
جس دن آپ بابا کو لۓ کر ہاسپٹل گۓ تھے ۔اس دن اک لاٹری نکلنی تھی شاید آپ کو یاد ھو۔
مجھے صیح یاد نہی
لیکن بابا کو یاد تھا ۔وہ جاتی دفعہ آپ کی امانت رکھ گۓ تھے اور سختی سے تلقین کر کہ گۓ تھے آپ کو لٹائ جاۓ۔اور أپ کی گھڑی بھی بابا کے پاس رہ گئ تھی۔پر وہ تو شاید گم گئ تھی۔
نہی وہ بابا کے کپڑوں میں تھی۔شاید آپ جلدی میں رکھ کر بھول گۓ تھے۔
اچھا۔انکل کیا آپ اس پتے پر تشریف لا سکتے ہیں؟
ہاں بیٹا ضرور۔
چلیں پھر ابھی چلیں پر کھانا۔نہی کھانا مل کر کھائیں گے پر میرے گھر۔
وہ انکو لے کر گھر آجاتی ھے شاندار گھر محل نما جیسا گھر۔
وہ باپ بیٹی خیراں ھو جاتے ہیں۔
اب اقراء کی ماں اور بیٹا ساتھ ھوتے ہیں۔
السلام علیکم
وعلیکم السلام
بھائ صاحب میں نواب صاحب کی بیوی یہ بیٹا حاشر نواب
جی بہن دکھ ہوا سن کر انکی موت کا اللہ جنت میں گھر دیں بخشش فرماۓ آمیں۔بہت اچھے انسان تھے آپ کے شوہر۔
جو احسان اسوقت آپ نے ہم پر کیا تھا بھائ صاحب وہ اک قرض ھے ہم پر
نہی بہن وہ میرے مالک تھے میرا فرض تھا انکی خدمت کرنا۔
وہ اکثر آپ کا ذکر کرتے رہتے بہت ڈھونڈا ہم نے آپ کو پر اللہ نے یہ وقت مقرر کر رکھا تھا
ہمارے پاس آپ کی اک امانت ھے۔
امانت ؟ کیسی امانت
اقراء کمرے سے کچھ کاغذ لۓ آئ اور اپنی ماما کو تھما دئۓ۔
بھائ صاحب آپ کی گھڑی جو آپ بھول گۓ تھے۔
اک پرانی پر قیمتی گھڑی دیکھ کر انکی آنکھیں بھر آئیں۔ یہ گھڑی تو مجھے نواب صاحب نے شادی کے تحفے میں دی تھی۔اور میں سمجھا یہ گم گئ ھے۔
جی جب آپ ہسپتال تھے نواب صاحب کی عیادت میں تب آپ یہ انکے بیگ میں رکھ کر بھول گۓ تھے۔
تب کی یہ امانت ہمارے پاس محفوظ ھے۔اور آپ کی امانت آپ کو مبارک ھو۔
اور دوسری امانت۔
یہ لاٹڑی کا ٹکٹ جو آپ کی کچھ عرصے پہلے جب أپ شاید گاؤں چلے گۓ تھے تب نکل آی تھی تو نواب صاحب نے تب ہی کہا تھا یہ مظہر کو ھر قیمت لٹانی ھے۔یہ آپ کے پورے دس لاکھ روپے ۔
دس لاکھ اتنی بڑی رقم ۔بابا
یہ میں نے اپنی تنخواۀ اکٹھی کر کے خریدی تھی۔اور نواب صاحب کے پاس ہی رکھوا دی تھی پر حالات ایسے بن گۓ یہ بھی میرے ذہن سے نکل گئ تھی میں سمجھا گھڑی کے ساتھ یہ بھی کہی گر گئ ھو گی۔
واہ نواب جناب۔آپ نے تو مالک ھونے کا حق ادا کر دیا۔ میری محبت کی لاج رکھ لی۔
اللہ آپ کو کروٹ کروٹ جنت میں مقام دے آمین۔
انکل آپ کے لیے اک تحفہ بھی ھے میری طرف سے۔
وہ کیا بیٹا۔ میں بابا کی فیکٹری سنبھال رہا ہؤں مجھے اک ایماندار کیشئر کی ضرورت ھے ۔تنخواۀ بھی بہتڑین ہے فلیٹ بھی ملے گا کیا أپ میرے لیے کام کریں گے۔ جیسے بابا کے لیے کرتے تھے
باپ بیٹی کو یقین نہی آرہا ہوتا۔ اللہ نے کیسے اک ہی دن میں انکی سن لی ھے۔
جی بیٹا ضرور میرے لیے باعث فخر و خوش قسمتی ھو گی میں اپنے مالک کے لیے حاضر ھوں۔
تو بس پھر یہ رہا کارڈ میرا کل کام پر آجاۓ۔ اور یہ اک ڈاکٹر کا نمبر ھے اسے چیک کروا لیا کریں یہ فیس نہی لے گا اور دوائیاں کمپنی دے گی۔
کھانا کھانے کے بعد ڈرائیور انکو انکے گھر چھوڑ آتا ھے۔
بابا۔ یہ سب کیا کیسے ھو گیا۔
بس بیٹا اللہ اپنے بندوں کی نیکی وقت ضائع نہی کرتا۔ یہ میری ان دس راتوں کی عیادت کی محنت اور نواب صاحب کے حساب کتاب میں ایمانداری کی نیکی ھے۔ جو رب نے ضائع نہی ھونے دی ۔سخت آزمائش کے بعد انعام کی صورت میں لٹا دی ھے۔
بیگم ساماں پیک کرو نۓ گھر کے لیے اور شکرانے کے نفل ادا کرو اسکی رحمت کے لیے۔ وہ بڑا کریم ھے۔ آزما کر نوازتا بھی ھے۔
اک نگاۀ آسماں کی طرف اور شکر الہی بہت بڑی عافیت و برکت ھے۔ ایماندار ۔ہمدرد۔ مخلص۔ بندوں کے لیے۔ جو دیر سے سہی پر واپس لوٹ کر آتی ضرور ہیں۔ ذندگی کب کہاں اپنے رنگوں کی بہار لوٹا دے معلوم نہی پڑتا۔اپنا کیا آگے أتا ھے۔چاہے وہ نیکی ھو یا بدی ۔مظہر کی سن لی رب نے۔اور رب اپنے بندوں پر بہت مہربان ھے۔
صنم فاروق حسین








