آپ کا سلاماردو غزلیاتپیر انتظار حسین مصورشعر و شاعری
آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا
پیر انتظار حسین مصور کی ایک اردو غزل
آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا
ہمارا وہ دل سے دل لگانا تو یاد ہوگا
کسی کی آنکھ میں سجے تھے خواب کتنے
وہ خوابوں کا محل بنانا تو یاد ہوگا
وہ جو کہتے تھے "تم بن سانس رکتی ہے”
ان کا آج یوں مسکرانا تو یاد ہوگا
بکھر گئے تھے ورق ورق زندگی کے سب
وہ بستی کا پھر سے بسانا تو یاد ہوگا
ترس گئے تھے جو اک ذرا سی آہٹ کو
وہ دستک پہ خود کو چھپانا تو یاد ہوگا
زمانے کی ٹھوکروں نے بہت کچھ سکھایا
وہ خود سے ہی خود کو مٹانا تو یاد ہوگا
ہوئے ہم بھی مصور رائیگاں محبت میں
وہ ہجر کا بوجھ اٹھانا تو یاد ہوگا
پیر انتظار حسین مصور








