- Advertisement -

جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی

ایک اردو غزل از احمد آشنا

جب ہم تھے جاں بلب تو شفا کی خبر ملی
مرتے ہوئے گھٹن سے , ہوا کی خبر ملی

میں جس دوا کو وقتِ مقرر پہ کھا گیا
مدت گزر چکی تھی دوا کی , خبر ملی

اس کی یہ بد عا تھی کہ بد قسمتی مری
وقت جزا بھی مجھ کو سزا کی خبر ملی

"میرا ہے جسم اور مری مرضی” زباں پہ تھا
قدرت سے پھر حجاب و ردا کی خبر ملی

اُس کو چھوئے بغیر ہی رخصت کیا گیا
چھونے سے قبل مجھ کو وبا کی خبر ملی

احمد آشنا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
نیل احمد کی ایک اردو غزل