اس دنیا کی پرانی کہانی اب بالکل بدل چکی ہے جہاں کبھی کبوتر بلی کو دیکھ کر معصومیت سے آنکھیں موند لیا کرتا تھا کہ شاید اس طرح وہ شکاری کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔ اب تو عالم یہ ہے کہ گلی محلے کی عام بلیاں بھی کبوتروں کو دیکھ کر منہ پھیر لیتی ہیں اور ان کا یہ ماننا ہے کہ ان ہڈیوں کے ڈھانچوں سے بھلا کیا گوشت برآمد ہوگا۔ وہ سوچتی ہیں کہ یہ بے چارہ کبوتر تو اونچی اڑانیں بھر بھر کر اور دانہ دنکا نہ ملنے کی وجہ سے اپنی ہڈیاں ہی سکھا چکا ہے اس سے بہتر ہے کہ کسی برائلر مرغی والے کی دکان کے نیچے ڈیرہ جما لیا جائے جہاں پیٹ بھرنے کا سامان ذرا آسانی سے میسر آ سکے۔
مگر صاحب یہ قصہ تو صرف ان چار ٹانگوں والی بلیوں کا ہے جنہوں نے فاقہ کشی سے تنگ آ کر کچھ نہ کچھ غیرت سیکھ لی ہے لیکن حضرت انسان کی بھوک کا عالم تو کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔ یہاں کی بڑی بلیاں یعنی دنیا کے وہ طاقتور ممالک جنہوں نے انسانیت کی خدمت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ان کی نظریں آج بھی ان ہی لاغر اور غریب کبوتروں پر جمی ہوئی ہیں۔ ان صیہونی شکاریوں نے تو ان غریب الوطن کبوتروں کا وہ حال کر دیا ہے کہ اب ان کی بوٹیوں سے جی نہیں بھرا تو ان کی ہڈیوں کی یخنی نکالنے کے درپے ہیں۔
تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صیہونی بلی لومڑی سے بھی زیادہ مکار نکلی جس نے برسوں پہلے اپنے خفیہ ایجنڈے کی وہ بساط بچھائی کہ دنیا آج تک اس کے سحر سے نہیں نکل سکی۔ کبھی اس نے ہولوکاسٹ کا سہارا لے کر مظلومیت کا ڈھونگ رچایا تو کبھی خود کو خدا کی چنی ہوئی سب سے اعلیٰ نسل قرار دے کر باقی دنیا کو اپنے قدموں تلے روندنے کا جواز ڈھونڈ نکالا۔ اس مکار بلی نے تو دنیا بھر کے ابلاغی ذرائع کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے تاکہ جب بھی وہ کسی معصوم کبوتر کی گردن دبوچے تو دنیا کو یہ یقین دلا سکے کہ کبوتر دراصل ایک خطرناک جانور ہے جو بلی کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا تھا۔
ان بڑی صیہونی بلیوں نے تو اپنے ساتھ دوسری خونخوار بلیوں کا ایک ایسا غول تیار کر لیا ہے جو امن پسندی کا راگ الاپتے ہوئے کبوتروں کے لہو سے ہولی کھیلتی ہیں۔ گیارہ ستمبر جیسے واقعات کا تانا بانا خود بنا جاتا ہے اور اس کا سارا ملبہ اس بے چارے کبوتر پر ڈال دیا جاتا ہے جس کے پاس اڑنے کے لیے پر تو ہیں مگر اپنا دفاع کرنے کے لیے ناخن نہیں۔ ان مکار بلیوں نے ایپسٹین جیسی فائلوں کے ذریعے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان کے ہوس کے پجاری معصوم بچوں کے خون سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور پھر اسی شیطان کے چرنوں میں سجدہ ریز ہو جاتے ہیں جس کے نام کی حکومتیں وہ دنیا بھر میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔
غزہ ہو یا سوڈان شام ہو یا مصر ہر جگہ ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے کہ جہاں کمزور کی ہڈیاں ہی کام آتی ہیں۔ ہم نے بچپن میں بزرگوں سے سنا تھا کہ ہڈیوں کا سرمہ بنایا جاتا ہے جو بینائی تیز کرتا ہے مگر اب تو ان بین الاقوامی قصابوں نے ہڈیوں کا سرمہ بنانا ایک عملی مشغلہ بنا لیا ہے۔ جب کبوتروں کے جسم کا سارا گوشت یہ طاقتور بلیاں نوچ لیتی ہیں تو پھر ان کی ہڈیوں کو پیٹ کر اپنی طاقت کا سکہ جماتی ہیں۔
تعجب تو اس بات پر ہے کہ یہ بلیاں خود کو امن کا علمبردار کہتی ہیں اور بڑی بڑی انجمنیں بنا کر کبوتروں کے حقوق کی حفاظت کا ناٹک کرتی ہیں۔ ان کا شعار تو اب صرف خدمت رہ گیا ہے مگر یہ خدمت کبوتر کی نہیں بلکہ اس صیہونی نظام کی ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ان طاقتور ممالک نے غریب قوموں کو بھوکا ننگا رکھ کر ان کی پروازیں چھین لیں اور اب ان کے پاس صرف ہڈیاں ہی بچی ہیں جن پر یہ صیہونی شکاری اپنی دانت تیز کر رہے ہیں۔
دنیا کا یہ عجیب تماشہ ہے کہ یہاں بلی کبوتر کا شکار کرنے کے بعد خود ہی اس کا ماتم بھی کرتی ہے اور پھر کبوتروں کی بستی میں امداد کے نام پر وہ زہر بھیجتی ہے جو ان کی رہی سہی ہمت کو بھی ختم کر دے۔ یہ صیہونی بلی اتنی چالاک ہے کہ اس نے کبوتروں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ان کا بچاؤ اسی میں ہے کہ وہ اپنی آنکھیں بند رکھیں تاکہ انہیں اپنا انجام نظر نہ آئے۔ لیکن اب کبوتروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آنکھیں بند کرنے سے بلی غائب نہیں ہوتی بلکہ شکار ہونا اور بھی آسان ہو جاتا ہے۔
اس عالمی سیاست کے کھیل میں اخلاقیات کا جنازہ کب کا نکل چکا ہے اور اب صرف وہ قانون باقی ہے جس میں بڑی بلی کو ہر اس کبوتر کو ہڑپ کرنے کی اجازت ہے جو اس کے ایجنڈے کے سامنے رکاوٹ بنے۔ صیہونیت کا یہ جال اتنا گہرا ہے کہ اس نے کبوتروں کے دانہ دنکا پر بھی پہرے بٹھا دیے ہیں تاکہ وہ اتنے کمزور ہو جائیں کہ اڑنے کا تصور بھی نہ کر سکیں۔ ان کا مقصد صرف گوشت کھانا نہیں بلکہ ان کبوتروں کی روح تک کو غلام بنانا ہے تاکہ وہ اپنی ہڈیاں خشک کر کے ان کے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں۔
مگر یاد رہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سبق ہے کہ کتنی ہی مکار بلیاں آئیں اور کبوتروں کا لہو پی کر رخصت ہو گئیں لیکن کبوتروں کی نسل آج بھی باقی ہے۔ یہ صیہونی ٹولہ چاہے کتنے ہی مکارانہ جال کیوں نہ بن لے اور چاہے کتنے ہی کبوتروں کی ہڈیوں سے اپنی پیاس کیوں نہ بجھائے ایک دن ان کا یہ غرور بھی خاک میں مل جائے گا۔ اب کبوتروں کو آنکھیں بند کرنے کے بجائے اپنے پروں میں وہ طاقت پیدا کرنی ہوگی جو ان شکاری بلیوں کی آنکھیں خیرہ کر دے اور اس صیہونی نظام کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
اکرم ثاقب








