عدو کی صف میں وہ کس ٹھاٹھ سے کھڑے ہوئے ہیں
یہی سبب ہے کہ احباب سے پرے ہوئے ہیں
ہماری آنکھ کی سرحد پہ جنگ جاری ہے
یہ اشک یونہی کسی بات پر اڑے ہوئے ہیں
مرا قبیلہ مجھے دار پر بلا رہا ہے
تمھارے جُبّہ و دَستار وہ پڑے ہوئے ہیں
بوقتِ حشر ملاقات تجھ سے ہونی ہے
ہمارے رونگٹے یونہی نہیں کھڑے ہوئے ہیں
شبِ وصال اُن آنکھوں نے کہہ دیا آخر
تمھارے ہاتھ کرامات سے بھرے ہوئے ہیں
کوئی رقیب ، کوئی یار ، کوئی مجنوں ہے
بس اک نگاہ سے سب مسئلے کھڑے ہوئے ہیں
پھر اُن کا وقت بھی مرہم نہ بن سکا اظہر
وہ زخم جو تری اک بات سے ہرے ہوئے ہیں
اظہر عباس خان







