آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

عدو کی صف میں وہ کس

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

عدو کی صف میں وہ کس ٹھاٹھ سے کھڑے ہوئے ہیں
یہی سبب ہے کہ احباب سے پرے ہوئے ہیں

ہماری آنکھ کی سرحد پہ جنگ جاری ہے
یہ اشک یونہی کسی بات پر اڑے ہوئے ہیں

مرا قبیلہ مجھے دار پر بلا رہا ہے
تمھارے جُبّہ و دَستار وہ پڑے ہوئے ہیں

بوقتِ حشر ملاقات تجھ سے ہونی ہے
ہمارے رونگٹے یونہی نہیں کھڑے ہوئے ہیں

شبِ وصال اُن آنکھوں نے کہہ دیا آخر
تمھارے ہاتھ کرامات سے بھرے ہوئے ہیں

کوئی رقیب ، کوئی یار ، کوئی مجنوں ہے
بس اک نگاہ سے سب مسئلے کھڑے ہوئے ہیں

پھر اُن کا وقت بھی مرہم نہ بن سکا اظہر
وہ زخم جو تری اک بات سے ہرے ہوئے ہیں

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button