اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں
بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں

آداب چمن بھی سیکھ لیں گے
زنداں سے ابھی نکل رہے ہیں

پھولوں کو شرار کہنے والو
کانٹوں پہ بھی لوگ چل رہے ہیں

ہے جھوٹ کہ سچ کسے خبر ہے
سنتے ہیں کہ ہم سنبھل رہے ہیں

آرام کریں کہاں مسافر
سائے بھی شرر اگل رہے ہیں

حالات سے بے نیاز ہو کر
حالات کا رُخ بدل رہے ہیں

کہتے ہیں اسے نصیب باقیؔ
پانی سے چراغ جل رہے ہیں

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button