جو میری سمت چا کر بھی کبھی مائل نہیں ہوتا
مگر مجھ پر کبھی اس کا اثر زائل نہیں ہوتا
ہے ہم دونوں ہی اک دوجے میں حائل ایک مدت سے
کوئی بھی تیسرا ہم میں کبھی حائل نہیں ہوتا
مری رائے ہے اس کو مستقل چارہ گری سنپوں
جو گا ؤکھا تو لیتا ہے مگر گائل نہیں ہوتا
جہاں میں دینے والے بھی سوالی دیکھے جاتے ہیں
سوالی ہو کے بھی کوئی یہاں سائل نہیں ہوتا
مری مرضی اسے اپنی ہی مرضی ہے نظر آتی
وہ میری مان لیتا ہے مگر قائل نہیں ہوتا
میں دوشی لا شعوری عشق کواو ل سمجھ بیٹھا
شعوری طور والا عشق اوائل نہیں ہوتا
ایم اے دوشی








