اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

سمندر کا میں کیوں احساں سہوں گا

میر تقی میر کی ایک غزل

سمندر کا میں کیوں احساں سہوں گا
نہیں کیا سیل اشک اس پر بہوں گا

نہ تو آوے نہ جاوے بے قراری
یوں ہی اک دن سنا میں مر رہوں گا

ترے غم کے ہیں خواہاں سب نہ کھا غم
کمی کیا ہو گی جو اک میں نہ ہوں گا

نہ وہ آوے نہ جاوے بے قراری
کسو دن میر یوں ہی مررہوں گا

اگر جیتا رہا میں میر اے یار
تو شب کو موبمو قصہ کہوں گا

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button