- Advertisement -

جانے کہاں پہ دل ہے رکھا!

فرزانہ نیناں کی اردو نظم

جانے کہاں پہ دل ہے رکھا!

آج کا دن بھی، پھیکا پھیکا
کھڑکی سے چھپ کر تکتا ہے
میں ہاری ،یا وہ ہے جیتا
روز کا ہی معمول ہے یہ تو
کل بھی بیتا آج بھی بیتا
درد بھی ویسا ہی بالکل ہے
تھوڑا تھوڑا، میٹھا میٹھا
چولھا، چوکا، جھاڑو، پونچھا
سب کچھ کر بیٹھی تب سوچا
ہر شے پونچھ کے ، جھاڑ کے دیکھا
جانے کہاں پہ دل ہے رکھا ۔۔۔!!!

فرزانہ نیناں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو نظم