پاکستانی معاشرہ اس وقت جن خاموش مگر گہرے بحرانوں سے گزر رہا ہے ان میں کم عمر بچوں کا بے لگام سوشل میڈیا استعمال ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ محض ایک ٹیکنالوجی کا سوال نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کی ذہنی، اخلاقی اور نفسیاتی ساخت کا معاملہ ہے۔ حالیہ دنوں سینیٹ میں اس موضوع پر ہونے والی بحث نے اس مسئلے کو قومی سطح پر نمایاں کر دیا ہے جو یقیناً خوش آئند امر ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر فلک ناز چترالی کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب ایوان بالا بھی اس خطرے کی سنگینی کو محسوس کر رہا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچے بلا روک ٹوک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی ذہنی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے ایک تلخ مگر ناقابل تردید حقیقت ہے۔ آج کا بچہ کتاب، کھیل کے میدان اور گھریلو گفتگو سے زیادہ موبائل اسکرین کا اسیر بن چکا ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا اس مسئلے کو قومی مسئلہ قرار دینا بروقت اور ذمہ دارانہ مؤقف ہے۔ انہوں نے درست نشاندہی کی کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک فرد یا ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ مسئلے کو قائمہ کمیٹی میں بھجوانے کی تجویز اس لیے بھی اہم ہے کہ وہاں سنجیدہ، تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا جا سکتا ہے۔
سینیٹر فوزیہ ارشد کی گفتگو نے اس بحث کو ایک اور اہم زاویہ فراہم کیا۔ انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا اب والدین کے لیے ایک سیریس مسئلہ بن چکا ہے۔ آج کے والدین خود اس مخمصے کا شکار ہیں کہ بچوں کو مکمل آزادی دی جائے یا سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں انتہائیں نقصان دہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین کو بھی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ بچوں کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں۔
تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا کے استعمال پر کونسلنگ کی تجویز نہایت اہم ہے۔ ہمارے اسکول اور کالج آج بھی نصابی نتائج تک محدود ہیں جبکہ طلبہ کی ذہنی صحت اور ڈیجیٹل رویوں پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ سوشل میڈیا کیا ہے، اس کے فوائد کیا ہیں اور نقصانات کس حد تک تباہ کن ہو سکتے ہیں تو شاید ہم ایک متوازن نسل تیار کر سکیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مسئلے کا حل کسی ایک وزارت یا محکمے کے بس کی بات نہیں۔ تعلیم، آئی ٹی اور داخلہ کے اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا ایک چیلنج بن چکا ہے اور ترقی یافتہ ممالک بھی اس حوالے سے قوانین اور ضوابط مرتب کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے اور کہاں اظہار رائے کی آزادی اور شخصی آزادی کا احترام لازم ہو جاتا ہے۔
پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر شیری رحمن کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس معاملے میں صوبائی حکومتوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ تعلیم چونکہ صوبائی معاملہ ہے اس لیے کسی بھی قانون یا پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے ہر پہلو کو دیکھے بغیر کوئی بھی فیصلہ ادھورا ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی بحث میں سینیٹر افنان اللہ خان کی جانب سے ڈیٹا پروٹیکشن بل کا حوالہ دینا بھی قابل توجہ ہے۔ بچوں کی آن لائن پرائیویسی آج کے دور کا ایک بڑا سوال ہے۔ کم عمر بچے نہ صرف ذہنی طور پر متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کا ڈیٹا بھی غیر محفوظ ہاتھوں میں جا رہا ہے۔ ایسے میں ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی کو اس بحث کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بات سمجھنا ہوگی کہ مسئلے کا حل محض پابندیوں میں نہیں بلکہ شعور، تربیت اور رہنمائی میں ہے۔ اگر ہم بچوں کے ہاتھ سے موبائل چھین بھی لیں مگر انہیں متبادل مثبت سرگرمیاں فراہم نہ کریں تو یہ پابندیاں دیرپا ثابت نہیں ہوں گی۔ ہمیں ایک ایسی پالیسی درکار ہے جو تحفظ بھی دے، تربیت بھی کرے اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی پیدا کرے۔
یوسف صدیقی








