آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتشہناز رضوی

فرض اپنا وہ نبھانے آئے

شہناز رضوی کی ایک اردو غزل

فرض اپنا وہ نبھانے آئے
میرے دل کو وہ جلانے آئے

آئے ہنستوں کو رُلانے آئے
سر پہ طُوفان اُٹھانے آئے

میں پہُنچ جاؤں نہ اُن تک ، یوں وہ
نقشِ پا اپنے مِٹانے آئے

دل کی دُنیا تہہ و بالا کر کے
اب مِرا سوگ منانے آئے

آیا برسات کا موسم پھِر سے
یاد پھِر زخم پُرانے آئے

چُٹکیوں میں ہی مِری جاں دیکھو
خاک میری وہ اُڑانے آئے

قبر میں دیکھئے “ شہناز” مُجھے
میرے اپنے ہی دبانے آئے

 شہناز رضوی

شہناز رضوی

نام :: شہناز رضوی تخلُّص :: شہناز سکونت :: کراچی پاکستان ادبی خدمات :: آن لائن طرحی مُشاعروں میں فیس بُک کے 9 گروپس میں 2013 سے شرکت کر رہی ہوں ۔ ایک شعری مجموعہ “ متاعِ زیست “ کے نام سے 2019 میں منظرِ عام پہ آ چُکا ہے ۔ اور اب دوسرا مجموعہ حمد و نعت کے حوالے سے بہت جلد آنے والا ہے ان شا اللہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button