آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

مِٹھڑی (ہمارا گاؤں)

ایک اردو غزل از رشید حسرت

جہاں پر بھی بسیرا ہو ہمارا، یاد مِٹھڑی ہے
ثمر قندؔ و بُخاراؔ ہے، مُراد آبادؔ مِٹھڑی ہے

سِراج، اللہ کو پیارے ہُوئے تو دور بدلا ہے
نہِیں جو وہ رہے تو اب سِتم اِیجاد مِٹھڑی ہے

گُزارا ہے جہاں بچپن، لڑکپن کا زمانہ بھی
رکھا جِس نے مِرے دِل کو ہمیشہ شاد مِٹھڑی ہے

کبھی ٹِیلوؔ، کبھی ٹِیٹی ٹماٹرؔ تھا، کبڈّیؔ تھی
ابھی کل کی ہو جیسے بات ایسے یاد مِٹھڑی ہے

پِشنگیؔ گاؤں میں، عیزت بخاریؔ دوسری جانِب
اِنہی اللہ والوں کے طُفیل آباد مِٹھڑی ہے

مُجاوِر ہیں رفیق احمدؔ، فقِیرانہ طبِیعت ہیں
رویّے سے فقِیروں کے تو گویا شاد مِٹھڑی ہے

تعصُّب سے ہیں بالا تر یہاں کے لوگ سِیدھے سے
خُدا ترسی یہاں کا شیوہ ہے شہزاد مِٹھڑی ہے

نواب اسلمؔ ہمارے فلسفہ میں بات کرتے ہیں
اِنہی کی دُور بِینی کے سبب آزاد مِٹھڑی ہے

یہاں پر مُختلف اقوام کے بھی لوگ بستے ہیں
مگر رنگ و نسل کی، قوم کی اضداد مِٹھڑی ہے

بلوچی بھی، برہوی بھی، یہاں سِندھی سِراکی بھی
سبھی قد والے رہتے ہیں جبھی شمشاد مِٹھڑی ہے

یہاں ساداتؔ بستے ہیں سو فیضِ عام ہے لوگو
رفیقِ آل احمدﷺ ہے جبھی تو شاد مِٹھڑی ہے

یہاں ملّاؔ قبِیلہ خیلؔ کا بازُو بنا ہر دم
پُرانا گاؤں دمڑیؔ تھا نئی اِیجاد مِٹھڑی ہے

محلّہ تالپوریؔ ہے کئی گھر سُومروؔ کے ہیں
مہیسرؔ قوم کی بھی اِک بڑی تعداد مِٹھڑی ہے

یہاں گولہؔ بھی بستا ہے، بسے کلواڑؔ، داروغہؔ
کہِیں سے آئے سولنگیؔ ابھی اولاد مِٹھڑی ہے

نِرولیؔ اور ابڑوؔ اور دھرپالیؔ بھی رہتے ہیں
ملے گا تُم کو آرائیںؔ کوئی بہزاد مِٹھڑی ہے

ہمارے دوست چاچڑؔ تھے کہ نام اِمدادؔ کرتے تھے
نہِیں ہم میں مگر اُس کی سُہانی یاد مِٹھڑی ہے

کِسی کو کیا جسارت ہے فرِیدؔ اور تاجؔ آگے ہیں
اِنہی کی کاوِشوں کا ہی صِلہ ہے، داد مِٹھڑی ہے

برابر سِلسِلہ تعلِیم کا ہے اِک گھرانے سے
گھرانہ وہ ہے قاضیؔ کا، اگر اسناد مِٹھڑی ہے

حوالہ مُعتبر تعلِیم کا صدیق قاضیؔ تھے
سبھی ہیں طِفلِ مکتب حاصلِ امداد مِٹھڑی ہے

یہاں حاجی عمرؔ کا نام لینا بھی ضرُوری ہے
وہی قُرآں پڑھاتے تھے جبھی اُستاد مِٹھڑی ہے

علیؔ صاحب تھے، قادرؔ، مولوی صاحبؔ بھی ہوتے تھے
منیر احمدؔ، فتےؔ، مقبولؔ کی اِیجاد مِٹھڑی ہے

بڑا کِردار قاضی یارؔ کا تعلِیم میں دیکھا
یہاں پر (باپ سے) اُستاد ہیں، اولاد مِٹھڑی ہے

ہمارے جانؔ مہرانیؔ مہارت سے پڑھاتے تھے
عدم کو چل دِیئے وِیران اُن کے بعد مِٹھڑی ہے

خُدا سے ہے دعا آباد رکھے پریم نگریؔ کو
جہاں بھی جا بسیں اپنا مگر اجداد مِٹھڑی ہے

یہاں حسرتؔ تخلّص کے بڑے مشہُور شاعِر ہیں
کبھی اِن کے لِیے شِیریںؔ، کبھی فرہادؔ مِٹھڑی ہے

رشید حسرت

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button