- Advertisement -

رات گزری نہ کم ستارے ہوئے

ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل

رات گزری نہ کم ستارے ہوئے

منکشف ہم پہ ہجر سارے ہوئے

ناؤ دو لخت ہو گئی اک دن

دو مسافر تھے دو کنارے ہوئے

پھول دلدل میں کھل رہا ہے یہاں

ہم ہیں اک جسم پر اتارے ہوئے

جانے کس وقت نیند آئی ہمیں

جانے کس وقت ہم تمہارے ہوئے

مدتوں بعد کام آئے ہیں

چند لمحے کہیں گزارے ہوئے

اپنی چھت پر اداس بیٹھے ہیں

ہم پرندوں کا روپ دھارے ہوئے

ذوالفقار عادل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شجاع شاذ پر شاہد ذکی کا ایک مضمون