دل میں کسی کے واسطے رکھی خلش نہیں
ایسی ہماری یار ہوئی پروَرِش نہیں
بس نام کے ہیں بچے مسلمان آج کے
اسلاف جیسی ان میں مگر کچھ روش نہیں
جاہ جلال سے مجھے ہو کیوں غرض جناب
اک عام آدمی ہوں کوئی التمش نہیں
گر با وفا ہے یار تو حاضر ہے جان بھی
ہر عام خاص کے لیے میں گُستَرِش نہیں
فیاضؔ کس طرح میں انہیں دل یہ دوں بتا
چہرے تو خوش نما ہیں مگر پر کشش نہیں
فیاض ڈومکی








