میجر عدنان: ایک زندہ روایت، ایک روشن مشعل
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتیں بلکہ اُن بیٹوں کی قربانیوں سے سر بلند رہتی ہیں جو اپنی جان مادرِ وطن پر نچھاور کر دیتے ہیں۔ پاکستان کی افواج اسی روایت کی امین ہیں۔ یہ ایک ایسی پروفیشنل اور جانفشانی سے لبریز فوج ہے جو صرف سرحدوں پر ہی نہیں، بلکہ ہر اس مقام پر ڈٹی رہتی ہے جہاں وطن دشمن قوتیں پاکستان کے امن کو للکارتی ہیں۔ شہادت اس فوج کے لیے محض ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک ایمان ہے، ایک عہد ہے، اور ایک زندہ روایت ہے۔
انہی جانبازوں میں میجر عدنان اسلم شہید بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے نخلستان کو مادرِ وطن کی مٹی پر قربان کر دیا۔ ضلع اٹک کی دھرتی نے اس سپوت کو جنم دیا، اور پاک فوج نے اس سپاہی کو اپنے سینے میں پروان چڑھایا۔ وہ ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کی رگوں میں وطن کی محبت دوڑتی تھی۔ ان کے والد میجر شیر ملک (ریٹائرڈ) خود فوج کا حصہ رہ چکے ہیں۔ یہ پس منظر اس بات کا گواہ ہے کہ میجر عدنان کا ہر قدم وطن کی خدمت کے لیے تھا۔
چند روز قبل بنوں میں بھارتی پشت پناہی یافتہ دہشت گرد گروہ ”فتنہ الخوارج” کے خلاف ایک آپریشن میں میجر عدنان نے ناقابلِ بیان جرات کا مظاہرہ کیا۔ یہ وہی دہشت گرد ہیں جو اسلام کے نام پر اسلام کو بدنام کرتے ہیں، جو انسانیت کے لبادے میں درندگی پھیلاتے ہیں، اور جن کے ہاتھ صرف خون بہانے کے عادی ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کے سپاہی فولاد ہیں، اور وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے ناپاک عزائم کو نیست و نابود کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
میجر عدنان آپریشن کے دوران شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں سی ایم ایچ راولپنڈی میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ چکلالہ، راولپنڈی میں ادا کی گئی، جہاں وزیراعظم، چیف آف آرمی اسٹاف، وزراء، فوجی افسران اور عوام نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں اپنے آبائی گاؤں میں فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ یہ مناظر اس بات کے گواہ تھے کہ ایک بیٹے کی قربانی صرف خاندان نہیں، پوری قوم کی متاعِ جاں ہے۔
دہشت گردی دراصل بزدلوں کا ہتھیار ہے۔ یہ درندے کبھی معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف تباہی اور خوف ہے۔ لیکن میجر عدنان کی قربانی ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کا حوصلہ ان کے تمام ناپاک ارادوں سے کہیں بلند ہے۔ جب تک اس دھرتی پر ایسے جانباز موجود ہیں، کوئی دشمن پاکستان کو جھکا نہیں سکتا۔
آج میجر عدنان اسلم شہید کا نام محض ایک فرد کی قربانی نہیں، بلکہ ایک زندہ روایت اور ایک روشن مشعل ہے۔ ان کا خون ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ان کی شہادت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ وطن کے دشمنوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہمارا فرض ہے۔
یہ مشعل ہمیں راستہ دکھاتی رہے گی، اور جب تک پاکستان کے سپاہی اپنے ایمان اور حوصلے کے ساتھ زندہ ہیں، اس سرزمین پر امن کے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ میجر عدنان اسلم شہید کا لہو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
یوسف صدیقی








