- Advertisement -

یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو

ایک غزل از نوشی گیلانی

یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
مِرے خدا مِرے دُکھ سے نکال دے اُس کو

وہ چُپ کھڑا ہے کئی دن سے تیری خاطر تو
کواڑ کھول دے اذنِ سوال دے اُس کو

عذاب بد نظری کا جِسے شعور نہ ہو
یہ میری آنکھیں، مِرےخّد و خال دے اُس کو

یہ دیکھنا شب ہجراں کہ کِس کی دستک ہے
وصال رُت ہے اگر وہ تو ٹال دے اُس کو

وہ جس کا حرفِ دُعا روشنی ہے میرے لیے
میں بُجھ بھی جاؤں تو مولا اُجال دے اُس کو

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل ندیم بھابھہ