آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینسیم شاہانہ سیمیں
اس پار دیکھنا کبھی اس پار دیکھنا
نسیم شاہانہ کی ایک اردو غزل
اس پار دیکھنا کبھی اس پار دیکھنا
اچھا لگا ہمیں اسے ہر بار دیکھنا
آئے جو کوئی غم تو پرکھنا انہیں ضرور
کتنے ہیں تیرے شہر میں غمخوار دیکھنا
نکلے تری تلاش میں دنیائے دشت میں
آیا نہ راس جب پسِ دیوار دیکھنا
تیرے بغیر کام ہے اپنا تو بس یہی
در دیکھنا کبھی، کبھی دیوار دیکھنا
دولت کو دیکھتے ہیں سبھی لوگ اے نسیم
دولت نہ دیکھنا کبھی، کردار دیکھنا
نسیم شاہانہ








